
دہلی فساد کے الزام میں گیارہ ماہ سے جیل میں بند ظریف عرف موٹا کو آٹھوں مقدمات میں ضمانت
دہلی فساد کے الزام میں گیارہ ماہ سے جیل میں بند ظریف عرف موٹا کو آٹھوں مقدمات میں ضمانت

نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)شمالی مشرقی دہلی فساد میں پچاس سے زائد خاندانوں کے سروںسے گارجین کا سایہ اٹھ گیا، لوگوں کے ذریعہ معاش تباہ ہوگئے ،تین دنوں تک خاموش تماشائی رہنے والی پولس کو جب تحقیق کی ذمہ داری دی گئی تو اس نے آنکھ موند کر کمزوروںکو نشانہ بنایا اور آن ڈیوٹی سپاہیوں کی دھندلی شناخت کو بنیاد پر کئی معاملات میں چارج شیٹ بھی داخل کردیے گئے ہیں ۔
جمعیۃ علماء ہند کی قانونی جد وجہد سے اب تک 188لوگوں کو ضمانت مل چکی ہے ، لیکن سفر طویل
دریں اثنا جمعیۃ علماء ہند جو دہلی فساد متاثرین کے لیے روز اول سے کام کررہی ہے ، اس کی طویل قانونی جدوجہد کا سلسلہ جاری ہے ۔ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے اس کام کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے لے کر کے کے ڈی کورٹ تک وکیلوں کی ایک بیٹری قائم کی ہے ۔
اسی سلسلے کے تحت کرکر ڈوما کورٹ کے امیتابھ راوت کی عدالت نے منگل کو ظریف عرف موٹا کو دس ماہ بعدسبھی آٹھوں مقدمات میں ضمانت کا فیصلہ سنایا ہے،اس طرح طویل عرصے کے بعد وہ اپنے گھروالوں سے مل سکے گا ۔اس مقدمہ میں ایڈوکیٹ آن ریکاڈر عبدالغفاراور ایڈوکیٹ محمد نوراللہ موجود تھے ، جب کہ پبلک پرازیکیوٹر شری اتم دت نے ملزم کی ضمانت کی مخالفت کی۔
طرفین سے بحث ومباحثہ کے بعد عدالت نے سیکشن 439کے تحت ملزم کو کچھ شرائط کے ساتھ گھر جانے کی اجازت دی ہے۔ عدالتی کارروائی کے سلسلے میں ایڈوکیٹ محمد نوراللہ نے بتایا کہ عدالت میں استدلال کیا کہ ملزم کو ’ڈسکلوزر‘ کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا ، جن لوگوں نے اس کا نام پولس کے سامنے ظاہر کیا تھا وہ آج کی تاریخ میں ضمانت پر ہیں تو پھر اس ملزم کو کس بنیاد پر جیل میں رکھا جارہا ہے ،
مزید برآں موکل ظریف اس مقدمہ میں بے قصور ہے ، کوئی ایسا پختہ ثبوت نہیں ہے جو پولس کی شناخت کی تائید کرے ۔ دہلی پولس کے آن ڈیوٹی سپاہیوں کی شناخت ناقابل اعتبار ہے اور اس بنیاد پر کسی کو مجرم نہیں ٹھہرا یا جاسکتا۔دہلی فساد سے متعلق قانونی معاملات کے نگراں ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی نے بتایا کہ اب تک گرچہ 188 لوگوں کو جمعیۃ علماء ہند کی جد وجہد کی وجہ سے ضمانت مل چکی ہے اور دوسرے بہت سارے افراد کسی اور فورم سے ضمانت پا چکے ہوں گے ، لیکن ابھی سفر طویل ہے ۔



