زرعی قوانین :کسانوں کا احتجاج جاری، حکومت کے ساتھ اگلی میٹنگ 2 فبروری کو ہوگی

نئی دہلی: (اردودنیا.اِن) مرکز کے زرعی قوانین کے خلاف سندھو بارڈر پر چل رہا کسانوں کا احتجاج اتوار کو 67 ویں دن میں داخل ہوگیا۔ سخت سیکورٹی کی تعیناتی کے درمیان سنگھو بارڈر پر کسان زرعی قوانین کو واپس لینے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
حکومت اور کسان رہنماؤں کے مابین مذاکرات کا اگلا دور 2 فروری کو ہونا ہے۔ دریں اثنا وزیر اعظم نریندر مودی نے زور دے کر کہا کہ احتجاج کرنے والے کسانوں کے لئے ان کی حکومت کی تجویز ابھی بھی برقرار ہے اور بات چیت میں محض ’ایک فون کال کا فاصلہ‘ہے۔وہیں غازی پور بارڈر (دہلی اترپردیش بارڈر) پر کسانوں کا احتجاجی مظاہرہ 67 ویں دن میں داخل ہو گیا ہے۔
کسان تحریک کومغربی اتر پردیش کے کسان طبقے سے حمایت ملنے کے بعد یہ تحریک ایک بار پھر بلند ہوگئی ہے۔ گزشتہ دو تین دن میں بہت سے کسانوں کے غازی پور بارڈر پہنچنے کی وجہ سے سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔غازی پور بارڈر پر مظاہرہ کررہے کسان شیام نے بتایاکہ حکومت نئے زرعی قوانین کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں لے رہی ہے۔ حکومت کو ان قوانین کو واپس لینا چاہئے۔
یہ حکومت اور کسانوں دونوں کے لئے اچھا ہوگا۔ایک دیگرکسان رمبیر سنگھ نے کہا کہ ہم حکومت کی تجویز کو قبول نہیں کریں گے۔ ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔ ہم نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ قوانین کو واپس لیا جائے۔



