
9 لاکھ ملازمین بے چین ، ریاست کی کمزور معاشی صورتحال عمل آوری میں رکاوٹ
تلنگانہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تلنگانہ میں کورونا کیسوں میں اضافہ اور لاک ڈاؤن کی صورتحال میں سرکاری ملازمین کی اضافی تنخواہ کی ادائیگی میں تاخیر پیدا کردی ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے پی آر سی کی سفارشات کو قبول کرکے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کے علاوہ وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں تین سال کی توسیع کا فیصلہ کیا ۔ وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں توسیع کے احکام جاری کردیئے گئے لیکن حکومت نے اضافی تنخواہوں کی ادائیگی کو ریاست کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر موخر کردیا ہے ۔
نو لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کو پی آر سی سفارشات کے تحت اضافی تنخواہ کا انتظار ہے۔ اس سلسلہ میں فائل چیف منسٹر کے دفتر میں منظوری کی منتظر ہے۔ کورونا لاک ڈاؤن کے سبب سرکاری خزانہ کی آمدنی متاثر ہوئی ، لہذا چیف منسٹر اضافہ تنخواہوں کے بارے میں فیصلہ سے قاصر ہیں۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ملازمین کی تنظیمیں بھی حکومت پر دباؤ بنانے سے گریز کر رہی ہیں۔
چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ یا چیف سکریٹری سومیش کمار سے ملاقات کا فیصلہ کیا گیا لیکن یہ دونوں کورونا کی صورتحال سے نمٹنے میں مصروف ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ملازمین کے نمائندوں کو تیقن دیا گیا کہ وہ مزید ایک ماہ تک انتظار کریں۔ ریاست کا مالی موقف بہتر ہونے کے بعد 30 فیصد فٹمنٹ کے مطابق تنخواہیں ادا کی جائیں گی۔ حکومت نے اپریل سے اضافی تنخواہوں کی ادائیگی کا اعلان کیا تھا لیکن کمزور مالی موقف اس راہ میں اہم رکاوٹ بن چکا ہے۔
ملازمین کو امید ہے کہ جون سے پی آر سی پر عمل آوری کا آغاز ہوجائے گا ۔ سرکاری ذرائع نے ملازمین کی تنظیموں کو یقین دلایا ہے کہ فٹمنٹ پر عمل آوری میں تاخیر کے باوجود انہیں بقایہ جات ادا کئے جائیں گے ۔ حکومت کو پی آر سی پر عمل آوری کے لئے سالانہ 1280 کروڑ کی ضرورت پڑے گی ۔



