قومی خبریں

 سعودی عرب میں مسلم سمجھ کر دفن کئے گئے ہندوشخص کے باقیات کو ہندوستان لایاگیا

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ سعودی عرب میں مسلم رواج کے تحت دفن ہونے والے ایک ہندو شخص کی باقیات کو واپس ہندوستان لایا گیا ہے اور وہ اس کے کنبہ کے حوالے کرنے کے مراحل میں ہے۔ جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ کو مرکزی حکومت کے مستقل ایڈوکیٹ رپودمین بھاردواج نے بتایا کہ لاش کی باقیات بدھ کی صبح ہندوستان پہنچی ہیں اور انہیں اترپردیش کے انائو میں مقیم کنبہ کے حوالے کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑی راحت ہے کہ کنبے کو لاش کی باقیات مل گئی ہیں تاکہ وہ ہندو رسم ورواج کے تحت ا س کی آخری رسومات ادا کرسکیں۔ عدالت نے سعودی عرب کے عہدیداروں سے اظہار تشکر کیا اور وزارت خارجہ کے پاسپورٹ اور ویزا (سی پی وی) ڈویژن کے ڈائریکٹر، کونسلر، وشنو کمار شرما کی کاوشوں کو سراہا۔شرما نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ متوفی سنجیو کمار کے آجر کے ذریعہ بھیجی گئی رقم 7 مئی کو اہل خانہ نے وصول کیا۔
عدالت نے سنجیو کمار کی بیوہ کی درخواست کانمٹارہ کردیا ہے۔ ان کی اہلیہ انجو شرما نے درخواست میں کہا تھا کہ ان کی موت کی اطلاع ملنے پر اہل خانہ نے حکام سے لاش واپس کرنے کی درخواست کی تھی۔51 سالہ سنجیو کمار 24 جنوری کو سعودی عرب میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے،وہ وہاں کام کرتے تھے۔
18 فروری کو اہل خانہ کو بتایا گیا کہ ان کی لاش وہاں دفن کردی گئی ہے۔ درخواست کے مطابق ہندوستان کے قونصل خانہ کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ یہ جدہ میں ہندوستان کے قونصل خانہ کے سرکاری مترجم کی غلطی کی وجہ سے ہواہے جس نے موت کے سرٹیفکیٹ پر سنجیو کے مذہب کو غلطی’مسلم‘ سے لکھ دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button