بین الاقوامی خبریں

سعودی عرب کی عدالت نے خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن لوجین الحاتلول کو قید کی سزا سنا ئی۔

آن لائین ڈیسک 1

غیرملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ان کے اہل خانہ اور مقامی میڈیا نے کہا کہ مقدمے پر بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔
31 سالہ لوجین الحاتلو کو خواتین کی حقوق سے متعلق کم از کم ایک درجن دیگر کارکنوں کے ساتھ 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

عدالتی فیصلے سے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں نازک مرحلہ سمجھا جارہا ہے کیونکہ وہ ریاض میں انسانی حقوق کے ریکارڈ پر تنقید کرچکے ہیں۔

سبق اور الشرق الوسط اخبارات کے مطابق لوجین الحاتلول پر سعودی سیاسی نظام کو تبدیل کرنے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اخبارات اور لوجین الحاتلول کی بہن نے بتایا عدالت نے مجموعی سزا سے مئی 2018 کو گرفتاری کے بعد دو سال اور 10 ماہ کی سزا معطل کردی۔

اخبارات کے مطابق انہیں فروری 2021 کے آخر میں رہا کیا جاسکتا ہے اگر وہ کسی بھی جرم کا ارتکاب کرتی ہیں تو ممکن ہے کہ انہیں دوبارہ جیل ہوجائے۔

سزا پانے والی انسانی حقوق کی رضا کار کی بہن نے ٹوئٹ میں بنتایا کہ لوجین الحاتلول پر 5 سال کی سفری پابندی عائد کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری وکیل اور لوجین الحاتلول جج کے فیصلے پر اپیل کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ان الزامات کو ’ناقابل فہم‘قرار دیا اور امریکا اور یورپ کے ممتاز انسانی و قانونی حقوق کے گروپوں لوجین الحاتلول کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

لوجین الحاتلول کو 2013 میں اس وقت مقبولیت حاصل ہوئی جب انہوں نے سعودی عرب میں خواتین کے ڈرائیونگ کے حق کے لیے عوامی مہم شروع کی۔

سعودی عہدیداروں نے کہا کہ خواتین کارکنوں کی گرفتاری سعودی مفادات کو نقصان پہنچانے اور بیرون ملک دشمن عناصر کی حمایت کی پیش نظر کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ ان کی جانچ جاری ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button