سپریم کورٹ نے زرعی قوانین پرکانگریس رکن پارلیمنٹ کی درخواست پر مرکز سے مانگا جواب

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)سپریم کورٹ نے تینوں زرعی قوانین کی آئینی حیثیت کو چیلنج دینے والے کیرالہ کے کانگریس رکن پارلیمنٹ ٹی این پرتاپن کی درخواست پر مرکز سے جمعرات کو جواب مانگا۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڑے اور جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی رام سبرامنیم کی بنچ نے اس درخواست پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے پر زیر التوا دیگر درخواستوں کے ساتھ شامل کردیا۔
کیرالا میں تھرسور لوک سبھا حلقہ کی نمائندگی کرنے والے پرتاپن نے الزام لگایا ہے کہ ان قوانین میں آئین کے آرٹیکل 14 (مساوات کا حق)، 15 (امتیازی سلوک کی ممانعت) اور 21 (زندگی اور آزادی کاحق) کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کو غیر آئینی، غیر قانونی اور غلط قرار دے کر منسوخ کیا جانا چاہئے۔ ایڈووکیٹ جیمس پی تھامس کے ذریعے دائر درخواست میں پرتاپن نے کہاکہ ہندوستانی زرعی شعبہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم ہے اور کچھ مسائل ہیں جن پر قابو پانا مشکل ہے جیسے موسم پر انحصار، پیداوار کی غیر یقینی صورتحال، مارکیٹ کی قیمتوں میں بھی عدم توازن ہے۔
اسی وجہ سے پیداوار اور انتظام کے معاملے میں زراعت ایک انتہائی پرخطر شعبہ ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کسان موسم پر منحصر ہیں،اس لئے زرعی پیداوار کی مارکیٹنگ کمیٹی (اے پی ایم سی) کے نظام کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ مفاد عامہ کا ہے اور ان قوانین کو منسوخ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ زراعت سے متعلق یہ قوانین 14.5 کروڑشہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔



