

نہ چلائی جائیں بدنام کرنے والی خبریں
نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)سیکس سی ڈیز کے الزامات کے تحت وزیر رمیش جارکیہولی کے استعفیٰ کے بعد کرناٹک میں سیاسی ہنگامہ جاری ہے۔ رمیش پر نوکری کے بدلے میں عورت کے جنسی استحصال کا الزام ہے۔ اس واقعہ میں اب کرناٹک حکومت کے 6 وزراء نے عدالت کی طرف رجوع کیا ہے اور عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ بدنام کرنے والے مواد کی اشاعت اور نشریات کو روکیں۔
بدنام کرنے والی خبروں پر پابندی لگائی جائے۔جن چھ وزرا نے سول عدالت سے رجوع کیا ہے۔ ان میں شیورا ہبر ، بی سی پاٹل ، ایچ ٹی سوم شیکھر ، کے سدھاکر ، نارائن گوڑا ، بایرتھی باسوراج کے نام شامل ہیں۔ یہ تمام وزرا کانگریس ۔جے ڈی ایس کے باغی گروپ کا حصہ رہے ہیں۔
جولائی 2019 میں کانگریس اور جے ڈی ایس کی حمایت سے دستبرداری کے سبب کرناٹک میں کانگریس اور جے ڈی ایس کی اتحاد والی حکومت گر گئی تھی۔اہم بات یہ ہے کہ رمیش جارکیہولی کرناٹک حکومت میں آبی وسائل کے وزیر تھے۔
ان پر کرناٹک پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن لمیٹڈ میں ملازمت دینے کے نام پر خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس سے متعلق سی ڈی سماجی کارکن دنیش کلا ہلی نے جاری کی تھی۔ جس کے بعد ریاست کی یدیورپا حکومت حزب اختلاف کے نشانے پر آگئی تھی۔ کانگریس مسلسل جارکیہولی کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی رہی۔
اس کے علاوہ کانگریس نے ان پر کارروائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔تاہم جارکیہولی نے کہا کہ انہیں سازش کے تحت ملوث کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اخلاقی اقدار کی بنیاد پر انہوں نے استعفیٰ دیا ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ بے قصور ثابت ہوں گے۔



