شادی ‘جنازہ دیگر تقاریب میں صرف سو افراد کی شرکت کی ہدایت،ریاستی حکومت احکام جاری کرے ۔
کورونا کے پھیلاو کو روکنے کے اقدامات ناکافی ۔ ہائیکورٹ کا اظہار برہمی
تلنگانہ: (اردودنیا.ان)تلنگانہ ہائی کورٹ نے کورونا پھیلنے سے روکنے شادی و دیگر تقاریب کے علاوہ میتوں میں 100 افراد کی شرکت کی پابندی عائد کرنے ہدایات دی ۔ عدالت نے حکومت سے کورونا پر قابو پانے میں ناکامی پر برہمی ظاہر کی اور کہا کہ تلنگانہ میں ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں کورونا مریضوں میں اضافہ ہونے لگا ہے اور حکومت نے معائنوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا ۔
ہائی کورٹ نے 7مارچ کے علاوہ 11 تا 13 مارچ کے دوران صرف 20ہزار معائنوں کی نشاندہی کی جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ صحت کے ذمہ دار تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں ٹیکہ اندازی میں مصروف ہیں ۔عدالت نے روزانہ 50ہزارمعائنوں کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ عدالت نے حکومت کو کورونا پھیلاؤ روکنے متعدد اقدامات کی ہدایات دیں اور کہا کہ تلنگانہ میں اسکولوں کے قریب‘ پرہجوم مقامات پر اور جن مقامات پر تعمیری سرگرمیاں جاری ہیں ان میں معائنوں میں اضافہ کیا جائے۔
عدالت نے مرکز سے جاری رہنما خطوط پر عمل کے سلسلہ میں کوتاہی نہ کرنے تاکید کی اور کہا کہ کورونا پھیلنے سے روکنے اقدامات پر تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے اور روزانہ ریاست میں کورونا بلیٹن جاری کیا جائے ۔ ہائی کورٹ نے ریاست میں بہترطبی سہولتوں کو یقینی بنانے کی ہدایت کے ساتھ معائنوں میں اضافہ کے احکام جاری کئے ۔
علاوہ ازیں محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ وہ ریاپڈ اینٹی جین کے بجائے آر ٹی پی سی آر معائنوں کی تعداد میں اضافہ کرے۔ عدالت کی حکومت پر برہمی پر ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ ریاست میں ٹیکہ اندازی کے ساتھ سرحدوں کے علاوہ بس‘ ریلوے اسٹیشن اور دیگر مقامات پر 300 سے زائد موبائیل یونٹ سرگرم ہیں جہاں معائنوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا ظاہر کیا اور اسکولوں‘ بازاروں‘ پرہجوم مقامات اورتعمیری مقامات پر کورونا معائنوں کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ہائی کورٹ نے آئندہ سماعت 7 اپریل کو منعقد کی اور کہا کہ اس سماعت کے دوران رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کے ساتھ دیگر اقدامات کے سلسلہ میں رپورٹ پیش کی جائے ۔عدالت نے گریجویٹ قانون ساز کونسل انتخابات کیلئے کورونا سے بچاؤ کے سلسلہ میں جاری رہنمایانہ خطوط پر عمل نہ کرنے کے علاوہ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے کا نوٹ لیا اور کہا کہ ریاست میں آئے دن طلبہ کے کورونا متاثر ہونے کی خبریں مل رہی ہیں اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے جو تشویشناک ہے۔
بحث کے دوران مستقبل میں ہولی کے تہوار کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کے سلسلہ میں توجہ دہانی کروائی گئی۔



