نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)انٹرنیشنل شوٹر ڈیڈی چندرو تومر کی موت ہوگئی، وہ کورونا سے متاثر تھیں ، میرٹھ کے آنند اسپتال میں آخری سانس لی۔ چندرو تومر کو 26 اپریل کو کورونا متأثر پایا گیا، جس کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ حال ہی میں شوٹر دادی پر بھی ایک فلم بنائی گئی تھی ، جو کافی مشہور ہوئی۔
انہوں نے اپنی شوٹنگ کیریئر کا آغاز 60 سال کی عمر میں کیا اور قومی سطح پر متعدد مقابلوں میں کامیابی حاصل کی۔ چندرو تومر نے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں بھی زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔دادی چندرو تومر اترپردیش کے باغپت ضلع کے گاؤں جوہری کی رہائشی تھی۔ دادی چندرو نے 60 سال کی عمر میں ہی شوٹنگ جیسے کھیل کو اپنایا کیریئر بنایا تھا، بعد ازاں انہوں نے قومی سطح کے کئی مقابلوں میں کامیابی حاصل کی۔ وہ دنیا کی سب سے عمر دراز شوٹر سمجھی جاتی تھیں ۔ شوٹر دادی پر حالیہ فلم ’سانڈ کی آنکھ‘ بنائی گئی تھی۔
An epitome of gender equality & champion of women’s rights Smt Chandro Tomar, known as ‘Shooter Dadi’ by her fans & admirers is no more.
The courage with which she challenged patriarchy & took up shooting as a sport will inspire generations to come.
Condolences to her family. pic.twitter.com/mhvOaGjAZI
— Hardeep Singh Puri (@HardeepSPuri) April 30, 2021
انہیں متعدد ایوارڈز بھی دیا گیا تھا، جن میں صدرجمہوریہ ایوارڈ میں شامل ہے ۔ سانس لیے میں دقت کے چندرو تومر کو منگل کے روز اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ جہاں صورتحال خراب ہونے کے بعدآئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا،ان کی عمر 89 سال تھی۔



