جرائم و حادثات

غیر مسلم سے شادی کا شاخسانہ، مسلم لڑکی کا گلا دبا کر ہندوشوہر نے کیا قتل

 بھوپال: (اردودنیا.اِن) مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ میں قتل کا سنسنی خیز کیس سامنے آیا ہے۔محض 20 سال کے شوہر نے بیوی کو صرف اس وجہ سے قتل کیا کہ اس نے باہر گھمانے کی ضد کی تھی ۔ واضح ہوکہ لڑکی مسلم تھی اور اس نے پیار کے پاگل پن میں آکر مرتد ہوکر ہندو عاشق کی شادی کی تھی ، لیکن محض ایک ضد نے ہندو شوہر کو قاتل بنادیا ۔ تفصیلات کے مطابق ہندو شوہر نے رضوانہ نامی لڑکی کا گلادبا کر قتل کردیا،

بعدازان شوہر اس کی لاش اسپتال لے گیا اور بیمار ہونے کا بہانہ بناکر ڈاکٹر کو دکھایا۔ ڈاکٹر نے جانچ کے بعد اسے مردہ قراردیا تھا، نیز پولیس کو اطلاع دے کر لاش پوسٹمارٹم کے لئے بھیج دی گئی،لیکن30 دن بعد جب لڑکی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آئی تو پتہ چلا کہ لڑکی کا گلا دبا کر قتل کردیا گیاہے۔

پولیس نے جب سختی سے پوچھ گچھ کی تو شوہر نے قتل کا اعتراف کرلیا کہ رضوانہ کا قتل اس نے کیا ہے۔پولیس کے مطابق چھند واڑہ ضلع کے دموآ نمبر آٹھ کا رہائشی سدھارتھ عرف بٹو ہلدار عمر 20 نے مسلم لڑکی رضوانہ عمر 20سال سے ایک سال قبل شاد ی کی تھی۔اسلام سے پھر جانے کے بعد رضوانہ ’سیما ہلدار‘ بن گئی تھی۔پولیس کے مطابق سیما(رضوانہ) نے کسی کام کے لئے 1500 روپے مانگے تھے اور باہر گھمانے کی ضدر کی تھی ،لیکن اس ضد کے آگے ہندو شوہر پگھلا،25 فروری کو اسی بابت دونوں کے مابین جھگڑا بھی ہواتھا۔

لیکن نامراد عاشق اور سنگ دل شوہر سدھارتھ نے اس کا گلا دبا کربے رحمانہ قتل کردیا۔قتل کے بعد گھر والوں کے ساتھ مل کر پولیس کو دھوکہ دینے اسپتال پہنچے،جب پولیس نے پوچھ گچھ کی، تو ملزم اور اس کے اہل خانہ نے اس کی بیماری کا بہانہ بنایا۔پولیس بھی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کرنے لگی ۔

قاتلوں کا خیال تھا کہ وہ بچ گئے ہیں ، لیکن اس وقت اس معاملہ کا انکشاف ہوا ، جب پوسٹ مارٹم رپورٹ 25 مارچ کو پولیس کو ملی ۔ پولیس شوہر سدھارتھ کو تھانے لے آئی اور پوچھ گچھ شروع کردی۔ وہ حیلے بہانے پر اڑا رہا ہے ، لیکن پولیس نے سختی کی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ اس کے سامنے رکھا،تو وہ ٹوٹ گیااور اس نے قتل کا اعتراف کرلیا۔

پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے اسے عدالت میں پیش کر کے جیل بھیج دیا۔خیال رہے کہ قاتل شوہر سدھارتھ بے روزگار ہے۔بے روزگار ہونے کی وجہ سے سیما سے اکثر اس کا تنازعہ ہوتا رہتا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button