
رام پنیانی
فلسطین ۔ اسرائیل تنازعہ حالیہ عرصہ کے دوران اس وقت نقطہ عروج پر پہنچا۔ جب مسجد الاقصیٰ میں داخل ہوکر اسرائیلی فورسیس نے فلسطینیوں کو اپنے ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینی ’’حماس‘‘ نے اسرائیل پر میزائیلوں کی بارش کردی پھر اسرائیل نے بڑے پیمانے پر فلسطینیوں پر حملہ کردیا۔ اس لڑائی میں فلسطینیوں کو بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا۔
200 سے زائد فلسطینی اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے جن میں 60 بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے برعکس اسرائیل میں 10 لوگ مارے گئے مہلوکین میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ اس ساری لڑائی میں اسرائیل نے فلسطینیوں کی اہم عمارات کو چن چن کو نشانہ بنایا۔ خاص طور پر ان عمارتوں کو اسرائیل نے بمباری کے ذریعہ زمین کے برابر کردیا جن میں میڈیا سنٹرس کام کررہے تھے۔ میڈیا سنٹرس کی عمارتوں کو تباہ کیا جانا یقینا ایک بہت بڑا المیہ اور سانحہ ہے۔ بہرحال فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان 11 دنوں تک جو جنگ جاری رہی جو خون آشامی کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کی وجہ مسجد الاقصیٰ کا مسئلہ ہی ہے۔
عربوں کے قلب میں ایک صیہونی مملکت کا قیام اور دنیا کے تیل سے مالامال علاقہ کے قریب امریکی آؤٹ پوسٹ کے طور پر اسرائیل کی تخلیق ہی علاقہ کے تمام مسائل کی جڑ ہے اور اس مسئلہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد اسرائیل کا اس بنیاد پر قیام عمل میں لایا گیا کہ یہودیوں کو خود کے اپنے ملک کی ضرورت ہے جہاں وہ رہ سکیں کیونکہ وہ ایسا دور تھا جب مختلف ملکوں میں یہودیوں کو نہ صرف ناپسندیدگی کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا بلکہ انہیں ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جاتا۔
جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ ہٹلر نے کس طرح کا سلوک روا رکھا ،وہ سب جانتے ہیں دنیا کے بیشتر ملکوں میں عوام اور حکمراں یہودیوں سے سخت نفرت کرتے رہے لیکن ایک ایسا وقت آیا جبکہ امریکہ اور برطانیہ نے اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے اس بہانہ سے فلسطین میں یہودیوں کیلئے ایک مخصوص علاقہ (ملک) کے قیام کا منصوبہ بنایا کہ ساری دنیا میں یہودیوں پر ظلم کیا جارہا ہے۔
دراصل امریکہ اور برطانیہ ایک خاص منصوبہ کے تحت عربوں کے قلب میں اسرائیل کا قیام عمل میں لانے کیلئے اس طرح کے دلائل پیش کررہے تھے۔ امریکہ اور برطانیہ کی کوشش بلکہ سازش کامیاب ہوئیں اور پھر اس کرۂ ارض پر یہودیوں کیلئے ایک ملک اسرائیل وجود میں آگیا جس کے ساتھ ہی فلسطینیوں کے حقوق سلب کئے جانے لگے۔
انہیں ان کے اپنے ملک سے نکالا جانے لگا ان کی آبادیوں کو غیرآباد کرتے ہوئے ان پر یہودیوں کی نئی بستیاں بنائی جانے لگی۔ اسرائیل دراصل نوآبادیات، طاقت کے بل بوتے پر ناجائز قبضہ اور زمین غصب کرنے کا کیس بن گیا ہے۔فلسطین ایک طویل عرصہ تک ایک ملک رہا۔
صرف مسلمان ہی اس ملک کے شہری نہیں تھے بلکہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائیوں اور یہودیوں کی ایک کثیر تعداد بھی فلسطین کے شہری تھی اور اس ملک کا ایک حصہ تھے تاہم امریکہ اور برطانیہ نے اپنے خفیہ منصوبہ کے تحت یہودیوں کیلئے ایک علاقہ مخصوص کیا اور اس کیلئے یہ جواز پیش کیا گیا کہ یہ علاقہ تاریخی طور پر یہودیت سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ یروشلم تین ادیان ابراہیم یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے ماننے والوں کیلئے ہمیشہ سے ہی ایک اہم مرکز رہا ہے۔
آپ کو یہ بھی بتانا ضروری ہوگا کہ یہودی اپنے لئے علیحدہ ملک کیلئے صدیوں سے تگ و دو کررہے تھے اور ان کی تمام تر توجہ کا مرکز فلسطین ہی تھا چنانچہ اس معاملے میں یہودیوں نے 1897ء میں اپنا پہلا عالمی اجلاس طلب کیا اور اس اجلاس کا انعقاد جرمنی میں عمل میں آیا۔ اس اجلاس میں یہودیوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا۔ ہم یہاں پہلے صیہونیت اور یہودیت کے درمیان فرق کو سمجھتے ہیں۔
یہودیت، یہودیوں کا مذہب ہے جبکہ صیہونیت، یہودیت کے نام پر کی جانے والی سیاست ہے، یعنی یہ ایسے ہی ہے جیسے ہندومت ایک مذہب ہے اور ہندوتوا ہندومت کے نام پر کی جانے والی سیاست ہے۔بہرحال یہودیوں نے اپنے پہلے عالمی اجلاس میں اپنے لئے ایک علیحدہ ملک کی قرارداد منظور کی اس وقت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے یہودیوں نے اس قرارداد کی شدت سے مخالفت کی۔
ان لوگوں کا کہنا تھا کہ اس طرح کی قرارداد کے نتیجہ میں یہودیوں کو امتیازی سلوک اور جانبداری کا سامنا اور یہودی تاجرین کو اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہودیوں کیلئے علیحدہ ملک کی کوششوں کو پہلی جنگ عظیم سے قبل بھی جِلا ملی اور وہ جرمن میں کئے گئے ہولوکاسٹ کی شکل میں منظر عام پر آئی۔ ہولوکاسٹ میں یہودیوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا جس کے بعد تو یہودیوں میں اپنے لئے ایک علیحدہ ملک کا نظریہ یا آئیڈیا زور پکڑ گیا ،
وہ سوچنے لگے کہ جرمن نازی اقتدار میں آگیا ہے اور وہاں ان کی جان و مال کی کوئی گیارنٹی نہیں اور جرمنی میں ان کا مذہبی تشخص خطرہ میں پڑگیا ہے، اس طرح ہولوکاسٹ نے یہودیوں میں اپنے لئے علیحدہ ملک کی خواہش سرایت کردی اور پھر فلسطینیوں کے کئی علاقوں کو حاصل کرتے ہوئے اسرائیل قائم کردیا گیا اور اس کیلئے لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور ارض فلسطین سے بیدخل کردیا گیا۔
یہودیوں کیلئے قائم کردہ اس نئے ملک کو امریکہ کی شکل میں سب سے بڑا حامی مل گیا اور امریکہ نے اسرائیل کو نت نئے ہتھیاروں سے لیس کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ ارض فلسطین پر زبردستی یہودی ملک قائم کرنے کا مقصد و آئیڈیا بالکل واضح تھا کہ مغربی سامراجی طاقتیں مغربی ایشیا میں فوجی لحاظ سے اہمیت کی حامل جگہ اپنے کنٹرول میں رکھنے کی خواہاں تھیں ۔ اس کے علاوہ جب تیل کے وسائل پر کنٹرول کی سیاست کا آغاز ہوا، ان طاقتوں نے یہ باور کرانا شروع کیا کہ تیل ایک قیمتی اور ضروری شئے ہے اور یہ شئے عربوں کیلئے چھوڑ دی جائے گی۔
ایک طرف امریکہ اور برطانیہ ، اسرائیل کو مضبوط و مستحکم بنانے کا عزم رکھتے تھے تو دوسری طرف بااثر یہودیوں نے خاص طور پر امریکہ میں اقتدار کے کئی مراکز پر کنٹرول حاصل کرلیا۔ اسرائیل نے 1967ء کے حملے کے بعد فلسطین کے ایک بہت بڑے علاقہ پر قبضہ کرلیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں کی تعداد میں فلسطینی قریبی ملکوں میں پناہ گزینوں کی حیثیت سے رہنے پر مجبور ہوگئے تب کہیں جاکر اقوام متحدہ خواب غفلت سے بیدار ہوا اور اسرائیل کی ظالمانہ و جارحانہ روش کی مخالفت کی۔
اقوام متحدہ میں ایسے کئی قراردادیں منظور کی جاچکی ہیں جس کے ذریعہ اسرائیل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ انصاف کرے اور جن فلسطینی علاقوں پر اس نے غیرقانونی قبضہ کیا ہے، اس سے دستبردار ہوجائے، لیکن اسرائیل نے اقوام متحدہ کی اکثر قراردادوں کو مسترد کردیا۔ اگر امریکہ ، اسرائیل کی تائید و حمایت نہ کرتا تو پھر اسرائیل کو عالمی اور حقوق انسانی کے قواعد کی خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا اور یہ سب کچھ امریکہ کی تائید و حمایت کا نتیجہ ہے۔
یہاں پر مسئلہ مذہب کا نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ تیل کے وسائل پر کنٹرول کا ہے۔ اصل مسئلہ علاقہ میں فوجی و سیاسی برتری کا ہے۔ حالیہ عرصہ کے دوران اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے فریقین سے جنگ بندی کی درخواست کرنے کیلئے ایک قرارداد منظور کرنی چاہی اور اس قرارداد میں اسرائیل کے خلاف ریمارکس کئے گئے تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ نے اپنے ویٹو اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے قرارداد کو روک دیا اور اس وقت اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا تھا کہ جنگ اس وقت ہی رکے گی جب اسرائیل اپنا مقصد حاصل کرلے گا۔
جنگ کے دوران اور اب بھی دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور ان مظاہروں میں فلسطینیوں پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔ ایک بات ضرور ہے کہ حماس نے اسرائیل پر جو شل باری کی ہے، اسے کسی بھی طرح منصفانہ قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن جس کمیونٹی کو آپ نے اپنے ظلم و جبر کا نشانہ بنایا ہے، اس میں سے بعض انتہا پسند گروپس آپ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور انتقام لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس کی وجہ یہی ہے کہ اسرائیل نے ایک مخصوص کمیونٹی کو اپنی ناانصافی کا شکار بنایا ہے۔ اس نے اس کمیونٹی کے ساتھ انتہائی ظالمانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اس سے شدید ناانصافی کی ہے۔ہندوستان کا جہاں تک تعلق ہے، اس نے ایک طویل عرصہ سے موافق فلسطین موقف اختیار کیا۔ مہاتما گاندھی نے ایک مرتبہ لکھا تھا: ’’یہودیوں کیلئے میری ہمدردی مجھے انصاف کے لوازمات کے تئیں اندھا نہیں کرسکتی۔ عربوں پر یہودیوں کو مسلط کرنا انتہائی غلط اور غیرانسانی فعل ہے۔
اٹل بہاری واجپائی اور سشما سوراج جیسے بی جے پی قائدین نے موافق فلسطین موقف اختیار کیا اور ارض فلسطین پر اسرائیل کے قبضہ کی مذمت کی تھی لیکن ہندوستان میں جیسے ہی نسلی قوم پرستی پنپنی لگی حکومت ہند کا جھکاؤ اسرائیل کی طرف ہونے لگا۔ اس طرح فلسطینیوں کے لئے انصاف کا مطالبہ پس منظر میں چلا گیا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ برسوں سے جاری اس مسئلہ کو تمام عالمی طاقتیں، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے حل کریں اور فلسطینیوں کے حقوق، ان کی اراضیات کو بحال کرے۔ ہم ایک ملک کی حیثیت سے اسرائیل کی ترقی کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔ ایسے میں اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطین اور اسرائیل کی حد بندی کئے جانے کی ضرورت ہے۔ آج دنیا ایک پرامن ورلڈ آرڈر کی خواہاں ہے۔
ایسے میں فلسطینیوں کے حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزی تشویش کی بات ہے۔ ان حالات میں امریکہ۔ سامراجی طاقتیں تیل پر کنٹرول کی بھوک سے متعلق اپنے عزائم کو ترک کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے تمام لوگوں کیلئے انصاف کے حق میں اقدامات کرنے چاہئیں۔



