فوکس اسٹیک پینوراما تکنیک کے ذریعےحجر اسود کی پیش کردہ تصاویر اتارنے میں 7 گھنٹوں کا وقت صرف ہوا
الریاض:(ایجنسیاں)صدارت عمومی برائے انتظامی امور حرمین شریفین نے تصویر اتارنے کی جدید ترین تکنیک کو استعمال میں لاتے ہوئے حجر اسود کو اس کی انتہائی بنیادی تفصیل کے ساتھ پہلی مرتبہ پیش کرنے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ کرونا وبا کی وجہ سے زائرین اور معتمرین ان دنوں حجر اسود کو بوسہ دینے کی سعادت سے محروم ہیں تاہم فوکس اسٹیک پینوراما تکنیک کے استعمال سے حجر اسود زیادہ مختلف زاویوں سے زیادہ واضح اور نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہےمنفرد ٹکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے حجر اسود کی پیش کردہ تصاویر اتارنے میں 7 گھنٹوں کا وقت صرف ہوا۔
اس مدت کے دوران اس مقدس پتھر کی 1050 تصاویر اتاری گئیں جن کی ریزولوشن 49 ہزار میگا پکسلز تھی۔ انہیں 50 گھنٹے سے زیادہ وقت لگا کر پراسس کیا گیا۔حجر اسود کعبہ شریف کے جنوب مشرقی کونے میں باہر کی سمت پایا جاتا ہے۔ اسی مقام سے طواف کا آغاز اور یہیں اس کا اختتام ہوتا ہے۔ یہ زمین سے ڈیڑھ میٹر اونچائی پر نصب کیا گیا ہے۔ حجر اسود کا رنگ سرخی مائل سیاہ ہے اور اس کا اندرونی حصہ پیالے کی طرح ہے۔
حجر اسود کو چاروں طرف سے خالص چاندی کے فریم سے تیار کیا گیا ہے تاکہ اسے محفوظ رکھا جا سکے اور پتھر کی جگہ بیضوی شکل میں دکھائی دیتی ہے۔مختلف حوالوں سے یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ زمین پر بھیجے جانے سے پہلے حجر اسود کا رنگ چمک دار اور سفید تھا مگر اللہ نے اس کا نور واپس لے لیا۔ یہ بات حدیث نبوی سے ثابت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت کے دو یاقوت ہیں۔
اللہ نے ان دونوں کا نور لے لیا۔ اگر ان کا نور غائب نہ کیا جاتا تو وہ مشرق اور مغرب کے درمیان کو روشن کر دیتا۔ حجر اسود پتھر کے 8 چھوٹے ٹکڑوں پر مشتمل ہے، جسے دن میں پانچ مرتبہ بیش قیمت عطریات سے معطر کیا جاتا ہے۔





