
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن)اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی کی 26 آیات قرآنی کو ہٹانے کے لئے پی آئی ایل پر سپریم کورٹ 12 اپریل کو سماعت کرے گی۔ جسٹس فلی نریمن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گا۔ وسیم رضوی کا کہنا ہے کہ مدرسوں میں بچوں کو قرآن کی ان آیات کو پڑھایا جارہا ہے جس سے ان کا ذہن شدت پسندی کی طرف گامزن ہورہا ہے ۔
رضوی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ قرآن کی ان 26 آیات میں دہشت گرد اورتشدد کی تعلیم دی گئی ہے اور دہشت گردی کو فروغ دینے والی کسی بھی تعلیم کو روکا جائے۔ رضوی نے کہا ہے کہ ملکی مفاد کے لیے عدالت کو ان آیتوںکو ہٹانے کا حکم دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان آیات کو بعد میں قرآن مجید میں شامل کیا گیا ہے۔
وہیں رضوی کو زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شیعہ اور سنی دونوں مذہبی رہنما اس مسئلے پر ایک پلیٹ فارم پر آگئے ہیں۔ رضوی کو اسلام سے بے دخل کرنے اور اسے کسی بھی قبرستان میں نہ رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مولانا کلب جواد کا کہنا ہے کہ رضوی نیپال کے راستے واپس آئے ہیں۔ اس کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہوسکتا ہے اور سی بی آئی جانچ کے گھیرے میں بھی وہ ہیں ۔



