لاک ڈاون میں امیروں کی دولت کیسے بڑھی اورغریب کیسے مزیدغریب ہوئے؟
نئی دہلی: (اردودنیا.اِن) کانگریس نے ہفتہ کو لوک سبھا میں وزیرخزانہ نرملا سیتارمن پرپلٹ وارکیاہے ۔اس نے الزام لگایاہے کہ سیتارمن ہندوستان کی معیشت کے لیے مضرہیں۔ حکومت کامقصدہم دواورہمارے دوہیں۔لوک سبھا میں پارٹی کے رہنما ادھیر رنجن چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ جب حکومت اور اس کے وزراء ملک کی ریاست اور معیشت کو سنبھالنے سے قاصر ہیں تو وہ کانگریس قائدین پر’توہین آمیز‘ تبصرے کر رہے ہیں۔
انہوں نے پارلیمنٹ کمپلیکس میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں الزام لگایاہے کہ وہ(سیتارمن) غصہ ور وزیر ہیں ، وزیر خزانہ نہیں۔یہ ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کے ساتھ مل کرملک کو کھائی میں لایا۔ ان کا صرف ایک ہی مقصد ہے ۔ ہم دو ، ہمارے دو۔انہوں نے کہا ہے کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہندوستان کے ارب پتی 35 فیصد امیر تر ہو گئے ،
جبکہ کروڑوں عام لوگوں کی آمدنی میں کمی آئی۔ ہم وزیر خزانہ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ انہوں نے الزام لگایاہے کہ اس حکومت نے سرمایہ داروں پر لاکھوں کروڑوں روپے کا قرض معاف کر دیا تھا ، لیکن کسانوں کے لیے بجٹ میں کمی کررہی ہے۔چودھری نے کہاہے کہ منریگا اور دیگر معاشرتی اسکیموں کے لیے مختص رقم کم کردی گئی ہے۔
بنیادی سوال کرنے پرحکومت لفاظی میں مصروف،کانگریس نے سیتارمن کومعیشت کے لیے مضربتایا
انھوں نے کہاہے کہ جب وہ ملک کی حالت اور معیشت کو سنبھال نہیں سکتے تو حکومت اور ان کے وزرا ہم پر ناراض ہوتے ہیں۔ آج وزیر خزانہ نے ہمارے قائدراہل گاندھی کے خلاف توہین آمیز ریمارکس دیئے۔ یہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کا احترام نہیں کرتی ہے۔کانگریسی لیڈرنے کہا ہے کہ ہندوستان کے وزیر خزانہ ہونے کے ناطے ، انہیں ایوان کے اندر غیر پارلیمانی کاموں میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ لوک سبھا میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے حکومت اور وزیر اعظم نریندرمودی کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سیتارمن نے کہاہے کہ کانگریس قائدین جعلی تقاریرکرتے ہیں ، ملک کو توڑنے والی قوتوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئینی اداروں کی توہین کرتے ہیں۔




