بین ریاستی خبریں

مرکزی حکومت کا بجٹ ہے یا انتخابی منشور ؟ : بالاصاحب تھورات

 مرکزی حکومت کا بجٹ ہے یا انتخابی منشور ؟ : بالاصاحب تھورات

ممبئی: (اردودنیا.اِن)کانگریس کے ریاستی صدرووزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے کہا کہ مودی حکومت کے پیش کردہ آج کے بجٹ سے جن ریاستوں میں انتخابات ہیں، انہیں ریاستوں میں ترقیاتی منصوبوں کے اعلان کا ایک نیا طریقہ سامنے آیا ہے۔ اس بجٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جن ریاستوں میں انتخابات نہیں ہیں، ان سے مودی حکومت نے چشم پوشی کی ہے۔ اس حکومت نے ملک کے عام بجٹ کو انتخابی منشور بنادیا ہے۔

وزیرمالیات کی آج کے بجٹ کی تقریر سننے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ملک کا عام بجٹ تھا یا انتخابی منشور یا سرکاری املاک کے فروخت کرنے کی قرارداد۔تھورات نے مزید کہا کہ ملک کی تاریخ میں قومی بجٹ کے ذریعے ملک کے بنیادی ڈھانچے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا جاتا تھا۔ گزشتہ ۷۰سالوں میں اس کے ذریعے بیشمار پروجیکٹ پایہ تکمیل کو پہونچے۔ لیکن آج کے بجٹ میں وزیرمالیات نے ملک کے تمام پروجیکٹ کوبیچ کر خودانحصار ( آتم نربھر)بھارت کا کھوکھلا کرنے کااعلان کیا ہے۔

تھورات نے کہا کہ آزادی کے بعد کانگریس حکومت کے ذریعے قائم کردہ پبلک سیکٹر کی نفع بخش کمپنیوں کو فروخت کرنے کامودی حکومت نے تہیہ کرلیاہے۔وزیرمالیات نے اپنی تقریرسے اس بات پر مہرلگادی ہے کہ ’میں دیش نہیں بکنے دونگا‘ کا نعرہ لگانے والے مودی دراصل جھوٹ بول رہے تھے۔ ایئرپورٹ، ہائی وے، بجلی کی لائنوں، ریلوے کی مال بردار لائنوں کے کچھ حصے، سرکاری گوداموں، گیل، انڈین آئل کی پائپ لائن اور اسٹیڈیم کو حکومت فروخت کرنے والی ہے۔

اسی طرح ملک کے سات بندرگاہیں بھی نجی کمپنیوں کو دی جانے والی ہیں۔ ملک کی املاک وسیکوریٹی پرائیویٹ کمپنیوں کو فروخت کی جاچکی ہیں۔ہندوستانی شہریوں کے لیے ایل آئی سی آج تک محفوظ سرمایہ کاری کرنے کا ایک بہترین ذریعہ تھی، لیکن آج کے بجٹ میں حکومت نے ایل آئی سی کو بھی فروخت کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس کے ذریعے حکومت نے ان کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کی زندگیوں میں اندھیرا کردیا ہے جو اپنے روشن مستقبل کے لیے ایل آئی سی میں سرمایہ کاری کیے ہیں۔

اس بجٹ سے مہاراشٹر اور ممبئی کو کچھ بھی نہیں ملا ہے۔ اس سے ایک بار پھر مہاراشٹرسے انتقامی سیاست کا کردار کو ظاہر ہوا ہے۔ جس ریاست کا ملک کی ترقی میں سب سے بڑا تعاون رہا ہے۔

ٹیکس کی شکل میں مہاراشٹر مرکز کو سب سے زیادہ رقم ادا کرتا ہے لیکن اس بجٹ سے مہاراشٹر ک کچھ نہیں ملا۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے انکم ٹیکس کی حد کا ذکر نہیں کرتے ہوئے ملازمت پیشہ و اوسط طبقے کوناامید کیا ہے۔ تھورات نے کہاکہ اس بجٹ سے کسانوں ، مزدوروں ،محنت کشوں ، ملازمت پیشہ ،نوجوانوں اور خواتین سمیت متوسط طبقے کوزبردست مایوس کیا ہے۔

بجٹ 2021: جانیں کیا کیا بیچنے والی ہے مودی حکومت!

متعلقہ خبریں

Back to top button