ممبئی :(اردودنیا.اِن)ممبئی ہائی کورٹ نے ممبئی کی مساجد میں اجتماعی طور پر نماز کی ادائیگی اور دیگر عبادات کی اجازت سے انکار کردیا۔ عدلیہ نے اس کے پس منظر یہ دلیل ہے کہ کرونا کی صورتحال تشویش کا باعث بن چکی ہے ،اس لئے اس بحرانی وقت میں لوگوں کی حفاظت زیادہ ضروری ہے۔ جسٹس آر.ڈی. دھنوکا اور جسٹس وی جی بشٹ کے بنچ کہا کہ مہاراشٹرا حکومت نے کورونا وائرس کے انفیکشن کے چین کو ختم کرنے کے لئے پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے ۔
عدالت نے کہا کہ مذہبی رسم و رواج کو منانا یا اس پر عمل کرنا ضروری ہے ، لیکن سب سے اہم عوامی انتظامات اور لوگوں کی حفاظت ہے۔بنچ نے یہ تبصرہ جامع مسجد ٹرسٹ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران کئے۔ درخواست میں کہاگیا تھا کہ وہ جنوبی ممبئی میں واقع ٹرسٹ کی ایک مسجد میں پانچ وقت کی نماز کی اجازت دیں۔
واضح ہو کہ مہاراشٹرا کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے منگل کو ریاست میں کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی روک تھام کے لئے پوری ریاست میں دفعہ 144 کا اعلان کیا تھا۔ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے 14 اپریل کی شام 8 بجے سے 15 دن کے ریاست بھر میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔سی ایم ٹھاکرے نے سوشل میڈیا کے ذریعہ ریاست کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کی رات آٹھ بجے سے کرفیو شروع ہوگا ،تاہم اس سے ضروری خدمات استثنیٰ ہیں ۔



