
ممبئی:(اردودنیا.اِن)ممبئی کرائم برانچ کے انسپکٹر سنیل مانے نے منسکھ ہیرین قتل کیس میں اہم کردار ادا کیاتھا۔ این آئی اے نے آج انسپکٹر سنیل مانے کو عدالت میں پیش کیا جہاں این آئی اے نے بتایا ہے کہ سنیل مانے 4 مارچ کی شام کو اپنے دفتر میں نہیں تھا بلکہ منسکھ کو قتل کئے جانے کے وقت وہ تھانہ گیا تھا۔این آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 4 مارچ کو سنیل مانے نے اپنا موبائل بند کیا تھا اور اسے اپنے بیگ میں رکھا تھا اور بیگ اپنے دفتر یعنی کندوالی کی کرائم برانچ یونٹ میں چھوڑ دیا تھا۔
اس کے بعد اس نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ وہ بیگ اپنے گھر لے جائے۔ تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مانے پھر کالوا چلے گئے جہاں پر سچن واجے کو اپنی گاڑی میں بٹھایا۔ اس کے بعد دونوں افراد ممبرا کی طرف بڑھے اور منسکھ کو بھی اپنی گاڑی میں بٹھا لیا۔ایسا کرنے کے بعدمنسکھ کا موبائل سنیل مانے لے کر گیا تھا اور وہ فوراہی رک گیا، تاکہ اس جگہ کا پتہ نہ چل سکے کہ اسے کہاں لے جایا جارہا ہے۔
اس کے بعد دونوں افراد نے منسکھ کو کسی اور کے حوالے کردیا۔ایسا کرنے کے بعد سنیل مانے کو وسائی لے جایا گیا، جہاں وہ منسکھ کا موبائل فون پر سوئچ کرتا ہے، تاکہ مستقبل میں جب منسکھ کے قتل کی تحقیقات کی جائے تو منسکھ کو نہ تلاش کرسکے۔
این آئی اے کا کہنا تھا کہ انہیں اس معاملے میں مزید تفتیش کرنی ہوگی کہ آخر منسکھ کا موبائل فون کہاں گیا تھا اور سنیل مانے سے مزید پوچھ گچھ کرنی ہے، جس کے بعد عدالت نے سنیل منے کو یکم مئی تک این آئی اے کی تحویل میں بھیج دیا ہے۔



