
کسان تنظیموں کی ملک گیر’چکاجام‘ کو کانگریس کی حمایت: بالاصاحب تھورات
مودی حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے دنیا بھر میں ملک کا سر نیچا ہورہا ہے
ممبئی:(اردودنیا.اِن) زرعی قوانین کی منسوخی کے لیے دہلی کی سرحدوں پر گزشتہ ۷۰ دنوں سے احتجاج کررہے کسانوں مطالبات کی جانب سے مودی حکومت قصداًچشم پوشی کرہی ہے۔
کسانوں کے صدائے احتجاج کو برداشت تک نہ کرپانے والی مودی حکومت کے تئیں کسانوں کا احتجاج دن بہ دن شدید ہوتا جارہا ہے۔ اسی احتجاج کے ایک حصے کے طور پر سنیوکت کسان مورچا نے ۶ فروری کو ملک گیر سطح پر تین گھنٹے کا چکاجام احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس پارٹی اس ’چکاجام‘ کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں ریاستی وزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے دی ہے۔
اس سلسلے میں تھورات نے مزیدکہا کہ ملک کا اَنّ داتا اپنے انصاف و حق کے لئے سڑکوں پر اترا ہواہے، لیکن مرکز کی بی جے پی کی آمرانہ حکومت ان کے مطالبات کو نظرانداز کررہی ہے۔ مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کسانوں کو برباد کردینے والے ہیں، اس لیے انہیں رَد کیے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس مہاراشٹرا سمیت پورے ملک میں احتجاج کرکے کسانوں کے پیچھے مضبوطی سے کھڑی رہی ہے ۔
زرعی قوانیں کی منظوری کے وقت پارلیمنٹ میں کوئی بحث نہیں کی گئی۔ احتجاج شدید ہونے کی بناء پر اب مودی حکومت صرف یہ دکھاوا کر رہی ہے کہ وہ کسانوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔
دہلی کی سرحدوں پر بیٹھیے ہوئے کسانوں پر مودی سرکار مظالم کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ مودی سرکار کی کوشش ہے کہ احتجاج کر رہے کسانوں کو کھانا اور پانی نہ ملے۔ یہ کسان دہلی میں داخل نہ ہوں ، اس کے لیے سڑکوں پر بڑے بڑے بیریکٹ لگا کر رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں۔
سڑکوں پر کیلیں ٹھونک دی گئی ہیں اور انٹرنیٹ خدمات بند کردی گئی ہیں۔ بڑے پیمانے پر پولیس فورس تعینات کرکے کسانوں کے احتجاج کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تھورات نے کہا کہ کسانوں کی تحریک کی حمایت پوری دنیا سے بڑھ رہی ہے اور مودی حکومت کے تعصب کی وجہ سے ہندوستان کی پوری دنیا میں تضحیک ہورہی ہے۔



