مؤذنین اور ائمہ کو چار ماہ کے بقایہ جات کی وقف بورڈ سے اجرائی،صدرنشین محمد سلیم کی خصوصی مساعی
9256 ائمہ اور مؤذنین کو 20 کروڑ روپئے جاری ،
تلنگانہ:(اردودنیا.اِن)وقف بورڈ تلنگانہ نے مؤذنین اور ائمہ کے ماہانہ اعزازیہ کے چار ماہ پر مشتمل بقایہ جات کو جاری کردیا ہے۔ وقف بورڈ صدرنشین محمد سلیم نے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے 9256 ائمہ اور مؤذنین کے چار ماہ کے بقایہ جات کے تحت 20 کروڑ روپئے جاری کئے ۔ یہ رقم تمام ائمہ اور مؤذنین کے اکاؤنٹ میں جمع ہوچکی ہے۔
ہر ماہ 5 ہزار روپئے کے حساب سے ستمبر تا ڈسمبر چار ماہ کا اعزازیہ 20,000 روپئے اکاؤنٹس میں جمع ہوچکا ہے جس کی اطلاع ائمہ اور مؤذنین نے وقف بورڈ عہدیداروں کو دی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے اعزازیہ کی اجرائی کے لئے 22.50 کروڑ روپئے منظور کئے تھے ۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے بعض اضلاع میں 6 ماہ کے بقایہ جات کی اجرائی کی ہدایت دی ہے۔ اس طرح حکومت کی جانب سے جاری کردہ مکمل بجٹ 22.50 کروڑ جاری کردیئے گئے ۔
بجٹ کے اعتبار سے بعض اضلاع میں 6 ماہ کا اعزازیہ جاری کیا گیا۔ دیگر اضلاع کے ائمہ اور مؤذنین کو جنوری اور فروری یعنی دو ماہ کا اعزازیہ باقی رہے گا۔ محمد سلیم نے امید ظاہر کی کہ رمضان المبارک کے دوران حکومت سے فنڈس حاصل کرتے ہوئے جنوری تا مارچ تین ماہ کا اعزازیہ جاری کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ائمہ اور مؤذنین کی امداد کے سلسلہ میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے تلنگانہ میں یہ اسکیم متعارف کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مساجد میں کمیٹیوں کی جانب سے دی جانے والی تنخواہیں روزانہ کے گزر بسر کیلئے کافی نہیں ہوتی، لہذا چیف منسٹر نے حکومت کی سطح پر ائمہ اور مؤذنین کو5,000 روپئے اعزازیہ مقرر کیا ہے ۔ محمد سلیم نے کہا کہ چیف منسٹر نے موصول ہونے والی تمام درخواستوں کو قبول کرتے ہوئے اعزازیہ جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کو وصول ہونے والی تمام درخواستوں کی جانچ کے بعد انہیں اعزازیہ کی فہرست میں شامل کیا جائے گا ۔
انہوں نے ائمہ اور مؤذنین سے خواہش کی کہ وہ اپنے اکاؤنٹ اور دیگر تفصیلات سے وقف بورڈ کو آگاہ کریں تاکہ ان کے حقیقی اکاؤنٹ میں رقم جمع کی جاسکے۔ انہوں نے مساجد کمیٹیوں سے اپیل کی کہ وہ ائمہ اور مؤذنین کو خدمات انجام دینے سے متعلق صداقت نامہ کی اجرائی میں تساہل نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اعزازیہ دراصل ائمہ اور مؤذنین کو ایک تحفہ ہے ۔
محمد سلیم نے کہا کہ وقف بورڈ اوقافی اداروں سے ہونے والی آمدنی کے ذریعہ تعلیمی اور دیگر فلاحی اسکیمات کا منصوبہ رکھتا ہے ۔ بورڈ کی جانب سے مختلف امراض کا شکار مریضوں کی حتی المقدور مدد کی جارہی ہے۔



