جرائم و حادثات

نابالغ سے زیادتی کی شکایت پولیس کو ایک دن کی تاخیرسے کرنے پر ملزم کوملی ضمانت

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)دہلی کی ایک عدالت نے 14 سالہ لڑکی سے زیادتی کے الزام میں گرفتار ایک شخص کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے سے متعلق پولیس کو شکایت کرنے میں ایک دن کی تاخیر ہوئی اورمعاملے میں تفتیش پہلے ہی مکمل ہوچکی ہے۔ایڈیشنل سیشن جج راج رانی نے ملزم پورن سنگھ بشٹ کو 20000 روپے کی ضمانت اور اتنی ہی رقم پر ضمانت دارپیش کرنے پراس شرط پر ضمانت دی ہے کہ وہ متاثرہ کے گھر سے مستقل طور پر 15-20 کلومیٹر دور رہے گا۔

جج نے کہاکہ درخواست کنندہ 27 جنوری 2021 ء سے تحویل میں ہے اور چارج شیٹ دائر کردی گئی ہے۔ پولیس کو اس معاملے سے آگاہ کرنے میں ایک دن کی تاخیر ہوئی۔ عدالت نے کہاکہ اس کیس کے حقائق اور حالات پر غور کرنے کے بعد درخواست گزار کو 20000 روپے کے مچلکے اور ضمانت کی رقم پرضمانت دی گئی ہے۔بشٹ (34) کو 26 جنوری کو تعزیرات ہند کی دفعہ 376 اور 506 اور بچوں کے جنسی جرائم سے متعلق تحفظات (پی او سی ایس او) ایکٹ کی دفعہ 4 کے تحت 26 جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا۔

بشٹ کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے بتایا کہ اس کا مؤکل اور متاثرہ خاندان ایک ہی عمارت میں رہتا ہے، متاثرہ لڑکی کے والد نے سن 2019 میں بشٹ سے 120000 روپے قرض لیا تھا۔بشٹ کے وکیل پرتیک مہتا نے کہاکہ درخواست گزار نے متاثرہ لڑکی کے والد سے متعدد بار رقم واپس کرنے کو کہا لیکن اس نے کبھی اسے واپس نہیں کیا۔مہتا نے بتایا کہ جب درخواست گزار نے 26 جنوری کو لڑکی کے والد سے اس رقم کا مطالبہ کیا تو اس نے جھگڑا کرنا شروع کیا اور دھمکی دی کہ اسے جھوٹے کیس میں پھنسادے گا۔

اس نے عدالت کو بتایاکہ درخواست گزار اپنے اہل خانہ میں کمائی کرنے والا واحد رکن ہے اور کووڈ19 کی موجودہ صورتحال میں درخواست گزارکو اپنے کنبہ کی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہے۔ وکیل نے بتایا کہ ملزم اس علاقے سے 15-20 کلومیٹر دور ایک مکان میں رہنے کے لئے تیار ہے جہاں لڑکی کا کنبہ کرایہ پر رہتا ہے۔ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر اے بی استھانہ نے ضمانت کی درخواست کی اس بنیاد پر مخالفت کی کہ ملزم پر آئی پی سی اور پاکسو ایکٹ کے تحت سنگین الزامات ہیں۔

جج نے ملزم کو اس شرط پر ضمانت دی کہ وہ متاثرہ کے علاقے میں نہیں جائے گا اور نہ ہی رہ سکے گا۔عدالت نے اسے کسی بھی طرح متاثرہ اور اس کے کنبہ کے افراد سے رابطہ نہ کرنے، استغاثہ کے گواہوں کو دھمکانے یا اثر انداز نہ کرنے یا ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑنہ کرنے کی بھی ہدایت دی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button