مرکز نے دہلی ہائی کورٹ سے کہا، واٹس ایپ ہندوستانی صارفین سے الگ طریقے سے سلوک کررہا ہے
نئی دہلی : ( اردودنیا.اِن) سوشل میڈیا ایپ واٹس ایپ کی نئی پالیسی پابندی لگانے کے معاملے میں پیر کو ہوئی سماعت میں مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ سے کہا کہ مرکزی حکومت نے واٹس ایپ کی نئی پالیسی کے بارے میں نوٹس جاری کیا ہے۔ مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔
مرکز نے کہا کہ واٹس ایپ کے جواب داخل کرنے تک اس معاملے کو ٹرائل کورٹ بھیج دیا جائے۔ تاہم مرکز نے کہا کہ واٹس ایپ اپنے ہندوستانی صارفین کے ساتھ اپنے یورپی صارفین سے مختلف سلوک کررہا ہے۔ مرکز نے کہا کہ ایپ کی جو پالیسی یورپ کے لوگوں کو دی گئی ہے وہ پالیسی ہندوستانیوں کو نہیں دی گئی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے درخواست گزار کو بتایا کہ دو باتیں ہیں۔ یہ رضاکارانہ ہے۔ اگر آپ نہیں چاہتے ہیں تو اس کا انتخاب نہ کریں۔ آپ کو اپ ڈیٹ ڈاؤن لوڈ کرنا ضروری نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ نہ صرف یہ ایپلی کیشن بلکہ ہر دوسرے ایپلی کیشن میں ایک جیسے قواعد و ضوابط ہیں۔
یہ ایپلی آپ سے کس طرح تعصب والا رویہ اپنا رہاہے؟ دراصل وکیل سی روہیلہ نے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے اور کہا ہے کہ واٹس ایپ کی نئی پالیسی رازداری کے حق کی خلاف ورزی کرتی ہے اور یہ نئی پالیسی قومی سلامتی کے لئے بھی خطرہ ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہائیکورٹ فوری طور پر واٹس ایپ کو نئی پالیسی پر عمل درآمد کرنے پر پابندی لگائے۔ درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں نوٹس جاری کیا جائے۔




