قومی خبریں

ٹی آر پی کیس: 29 جنوری تک ارنب سمیت پولیس پر کوئی کاروائی نہیں

 

ممبئی:(ایجنسیز)ممبئی پولیس نے جمعہ کے روز بمبئی ہائی کورٹ کو بتایا کہ وہ ٹی آر پی کی مبینہ ہیرا پھیری کے معاملے میں ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر انچیف ارنب گوسوامی اور اے آر جی آؤٹلیر میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کے دیگر ملازمین کے خلاف 29 جنوری تک کوئی قابل سزا کارروائی نہیں کرے گی۔ اے آر جی ری پبلک ٹی وی چینل کو چلانے والی ایک کمپنی ہے۔جسٹس ایس ایس شنڈے اور جسٹس منیش پٹیلے کے بنچ نے بھی ہانسا ریسرچ گروپ کمپنی کے ملازمین کو دی جانے والی عبوری ریلیف میں 29 جنوری تک توسیع کردی۔

انہوں نے پولیس کو ہفتہ میں دو دن سے زیادہ پوچھ گچھ کے لئے نہ بلانے کی ہدایت کی۔ بینچ نے ممبئی پولیس کی جانب سے ٹی آر پی کے مبینہ جوڑ توڑ کی تحقیقات کرنے والی صورت حال کو بھی ریکارڈ کیا۔ اے آر جی میڈیا نے گذشتہ سال ہائی کورٹ میں رجوع کیا تھا اور درخواست کی تھی کہ پولیس کو اپنے ملازمین کے خلاف تعزیراتی کارروائی روکنے کی ہدایت کی جائے۔ اے آر جی کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے نے جمعہ کے روز عدالت کو بتایا کہ ممبئی پولیس کا ٹی آر پی میں ہیرا پھیری کے لئے گوسوامی کو رشوت دینے کا الزام ’بے بنیاد‘ ہے۔ سالوے نے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے مبینہ ٹی آر پی گھوٹالہ کے سلسلے میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا تھا اور اسی معاملے میں تفتیش کررہا ہے۔

انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ ای ڈی سے اس سلسلے میں اسٹیٹس رپورٹ پیش کریں اور اگر ممبئی پولیس اور مرکزی ایجنسی کی اسٹیٹس رپورٹ میں کوئی خاص فرق نظر آتا ہے تو عدالت کو پتہ چل جائے گا کہ اے آر جی کے خلاف مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ ای ڈی کے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ، انیل سنگھ نے بینچ کو بتایا کہ مرکزی ایجنسی نے اسٹیٹس رپورٹ تیار کرلی ہے۔ ممبئی پولیس کے وکیل سینئر وکیل کپل سبل نے تاہم ای ڈی کی اس دلیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی اس معاملے میں فریق نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button