بین الاقوامی خبریںسرورق

ٹیلیگرام پیغام رساں ایپ کے نئے صارفین میں ڈھائی کروڑ کا اضافہ

برلن: (ویب ڈیسک)واٹس ایپ کی جانب سے پرائیویسی پالیسی میں تبدیلیوں کے اعلان کے بعد متبادل تلاش کرتے صارفین مختلف ایپس ڈاؤن لوڈ کررہےہیں۔گزشتہ چند گھنٹوں میں پیغام رساں ایپلیکیشن ٹیلیگرام کے صارفین میں ڈھائی کروڑ کا اضافہ ہوا ہے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ٹیلی گرام کی جانب سے کیے گئے اعلان اور اس کے ساتھ جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق حالیہ اضافے کے بعد ایپلیکیشن کے فعال اکاؤنٹ رکھنے والے مجموعی صارفین کی تعداد پچاس کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔

میسیجنگ ایپلیکیشن کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق اڑھائی کروڑ نئے صارفین میں سے 38 فیصد کا تعلق ایشیا سے، 27 فیصد یورپ سے جب کہ 21 فیصد لاطینی امریکہ اور آٹھ فیصد نے مشرق وسطی سے ایپ کو جوائین کیا ہے۔

واضح رہے ٹیلیگرام کے مطابق حالیہ اضافہ گزشتہ برس 2020 کے مقابلے میں خاصا زیادہ ہے۔ٹیلیگرام ایپ کے نمائندے کا کہنا ہےکہ اپنے سات سالہ عرصہ میں ہم کئی مرتبہ استعمال میں ایسا اضافہ نوٹ کرچکے ہیں لیکن اس مرتبہ یہ کچھ الگ بات ہے۔

ٹیلیگرام نے بات یہی تک محدود نہیں رکھی بلکہ مدمقابل ایپس کا نام لیے بغیر کہا کہ ہم اس وقت پرائیویسی اور سیکیورٹی کے حواہشمند صارفین کے لیے پناہ گاہ بن چکے ہیں، ہم اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور صارفین کو نقصان نہیں اٹھانے دیں گے۔

ٹیلیگرام کی جانب سے صارفین کی تعداد میں اضافہ کے اعلان پر ردعمل دینے والے صارفین میں سے کچھ نے ان سے پوچھا کہ وہ اتنے خاص کیسے ہوئے تو کوئی یہ تقاضہ کرتا رہا ہے کہ اضافہ کو گراف کی صورت دکھایا جائے۔

ٹیلیگرام کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ہمارے لیے صارفین ہی ہماری واحد ترجیح رہیں گےاور دوسری ایپلیکیشنس کی نسبت ٹیلیگرام نے نہ تو شیئرہولڈرز کو اور نہ ہی اشتہار دینے والوں کو جواب دینا ہے۔

ہم مارکیٹیرز، ڈیٹا مائنرز یا حکومتی ایجنسیوں کے ساتھ کام نہیں کرتے جبکہ اگست 2013 میں لانچ کیے جانے کے بعد سے اب تک ہم نے اپنے صارفین کے پرائیویٹ ڈیٹا کا ایک بائٹ بھی تھرڈ پارٹی سے شیئر نہیں کیا ہے۔

خیال رہے متبادل ایپس کی تلاش کے نتیجے میں دیگر ایپلیکیشنس کی طرف صارفین کا رجوع ٹیلیگرام تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ ایک اور ایپ سگنل بھی میدان میں موجود ہے۔

گزشتہ چند روز سے ٹوئٹر پر واٹس ایپ کی سرگرمیوں کو براہ راست نشانہ بنانے والی ایپلیکیشن نے بدھ کی صبح اپنے صارفین کے لیے مختلف زبانوں میں ڈیزائن کیے گئے پیغامات شیئر کیے تو کہا کہ اپنی سابقہ ایپ (واٹس ایپ) کی چیٹ میں انہیں یہ سگنل ضرور دیں۔

سگنل چند روز قابل بازار حصص میں سگنل نامی ایک کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کا ذکر کرتے ہوئے بالواسطہ طور پر یہ بھی بتا چکی ہے اسٹاک مارکیٹ میں جس سگنل میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے وہ کوئی اور ہے۔

یاد رہے میسیجنگ ایپ کی دنیا میں سگنل کو بھی واٹس ایپ کا مضبوط متبادل سمجھا جاتا ہے اور پرائیویسی اور سیکیورٹی معاملات پر نظر رکھنے والے ٹیکنالوجی ماہرین سگنل ایپ کو خاصا بہتر قرار دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button