بین الاقوامی خبریں

پاکستان: تشدد کا سلسلہ جاری، نیم فوجی دستے تعینات

اسلام آباد: (ایجنسیاں) پاکستان کے مختلف شہروں میں جاری تشدد پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت نے نیم فوجی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ تین دنوں سے جاری تشدد کے واقعات میں اب تک کم از کم پانچ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد حالات کو قابو میں کرنے کے مقصد سے ان کے حامی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پاکستانی سکیورٹی فورسز نے راولپنڈی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں لاٹھیاں چلائیں اور آنسو گیس کے شیل داغے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں شر پسند عناصر کو امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے نواحی علاقوں کی سڑکوں کو مظاہرین سے خالی کرا لیا گیا ہے تاہم وہ اب بھی راولپنڈی، لاہور اور دیگر شہروں میں صورت حال کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم میں دو پولیس اہلکار سمیت کم ا ز کم پانچ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔اس دوران وفاقی کابینہ کی میٹنگ میں ملک کے تمام بڑے شہروں میں پاکستان رینجرز کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ماہ رمضان کے دوران امن و قانون کو برقرار رکھا جا سکے۔

حکومت نے کہا کہ وہ ٹی ایل پی کے کسی دباو کے آگے نہیں جھکے گی۔وفاقی کابینہ کی میٹنگ کے بعد سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر گروپ کو احتجاج کرنے کا حق ہے اور ہم ٹی ایل پی کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ گوکہ حکومت ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن وہ کسی گروپ کے دباو میں نہیں آئے گی اور حکومت کسی بھی گروپ کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی

تحریک لبیک کے سربراہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں شروع ہونے والے احتجاج کا آج تیسرا دن ہے۔ مظاہرین نے اہم شاہراہوں پر دھرنا دے رکھا ہے جس کی وجہ سے آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔پاکستانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ساہیوال میں نیشنل ہائی وے کو خالی کرانے کے لیے پولیس آپریشن میں پچاس سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

واضح رہے کہ ٹی ایل پی نے گزشتہ برس نومبر میں اسلام آباد میں حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا جائے، جس کے لئے حکومت نے اس سال فروری تک کا وقت مانگا تھا اور بعد میں مزید وقت مانگا گیا تھا۔ تحریک لبیک نے حکومت کے لیے 20 اپریل کی تاریخ مقرر کی اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بیس اپریل تک فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کر دے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button