بین ریاستی خبریںدلچسپ خبریںسرورق

چمولی حادثہ : کیا 56 سال قبل امریکہ کے رکھے پلوٹونیم پیک تو حادثہ کا سبب تو نہیں ؟

چمولی حادثہ کا جوہری کنکشن: کیا 56 سال قبل امریکہ کے رکھے پلوٹونیم پیک تو حادثہ کا سبب تو نہیں ؟

پلوٹونیم

دہرادون:(اردودنیا.اِن)اتراکھنڈ کی حکومت چمولی میں گلیشیر پھٹنے کی وجہ معلوم کرنے کے لئے ایک محکمہ قائم کرنے جا رہی ہے۔ مرکزی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا جا ئے گا کہ وہ اس رڈارسسٹم کا بھی پتہ لگائے ، جو 56 سال قبل ہمالیائی پہاڑی پر امریکہ نے بھیجا تھا۔اس میں نیوکلیئر پاور (پلوٹونیم) سے چلنے والا ایک کیپسول تھا۔

اس راڈار سے چین کی نگرانی کی جانی تھی۔ ریاست کے آبپاشی کے وزیر ست پال مہاراج نے پیر کو یہ بات کہی۔ست پال نے یہ بھی کہا کہ ان کی وزارت کے تحت ایک محکمہ بھی تشکیل دیا جائے گا جو سیٹ لائٹ سے تعلق رکھنے والے گلیشیروں کی نگرانی اور تجزیہ کرے گا۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر پلوٹونیم کے دھماکے کی وجہ سے گلیشیر ٹوٹا ہے

تو اتراکھنڈ اور خاص کر دریائے گنگا میں بھی خطرناک تابکاری پھیل سکتی ہے۔چین نے 1964 میں ایٹمی تجربہ کیا تھا۔ اس کے بعد 1965 میں امریکہ نے بھارت کے ذریعہ چین پر نظر رکھنے کے لئے ایک معاہدہ کیاتھا۔ اس کے تحت ہمالیہ میں نندی دیوی کی پہاڑی پر ایک راڈارنصب کیاجانا تھا ۔ اس میں ایٹمی طاقت سے چلنے والا جنریٹر تھا۔ اس جنریٹر میں پلوٹونیم کے کیپسول تھے۔

لیکن جب یہ مشینیں پہاڑ پر چل رہی تھیں ،تب موسم خراب ہو گیا۔ ٹیم کو واپس جانا پڑا۔ مشین وہیں رہ گئی تھی، بعد میں وہ گلیشیر میں کہیں گم ہوگئی تھی۔ مشینیں کھونے کے بعد امریکہ نے وہاں دوسرا سسٹم نصب کیا۔

اب خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کہیں اس پلوٹونیم کی وجہ سے تو چمولی میں گلیشیر نہیں ٹوٹا ۔ کہا جاتا ہے کہ پلوٹونیم پیک کی عمر تقریبا 100 سال ہواکرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button