بین ریاستی خبریں

ڈکیتی اور قتل کے مجرم کو 22 سال قید،

تاعمرجیل میں رکھنادرست نہیں ہوگا: سپریم کورٹ

نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)سپریم کورٹ نے ڈکیتی اور قتل کیس میں مجرم کی سزا 22 سال کردی ہے۔سپریم کورٹ نے کہاکہ ان حالات میں مجرم کو ہمیشہ کے لئے جیل میں رکھنا ٹھیک نہیں ہوگا۔ مجرم شیولنگا عمر قید کی سزا بھگت رہے ہیں اور اس نے پہلے ہی 18 سال کی سزا کاٹ لی ہے۔

سپریم کورٹ نے آئی پی سی کی دفعہ 396 (ڈکیتی اور قتل) میں مجرم کو سزا سنائی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ انصاف کاتقاضہ یہی ہوگاکہ مجرم کی سزا 22 سال کی جائے۔یہ معاملہ کرناٹک کا ہے۔

پولیس کے مطابق 23 دسمبر 1998 کو بنگلور جانے والے ٹرک کے ڈرائیور اور کلینر کے ساتھ ڈکیتی کی واردات ہوئی۔ پولیس کے مطابق مجرم نے واردات کرتے ہوئے ڈرائیور کا ہاتھ کاٹ ڈالا تھا جب کہ کنڈکٹر کوتشددکا نشانہ بناتے ہوئے ماراتھا،

جس کی بعدکنڈکٹرکی موت ہوگئی تھی۔ نیز ٹرک سے ٹیپ ریکارڈرز، ٹائر اور جیک بھی لئے گئے تھے۔ شیولنگ کو آئی پی سی کی دفعہ 396 (ڈکیتی اور قتل) کے تحت ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی۔ فیصلے کو مجرم نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔کرناٹک ہائی کورٹ نے پھانسی کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا،

جس کے بعد مجرم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت عظمیٰ کو بتایا گیا کہ ملزم نے سزا میں چھوٹ کے لئے حکومت کے سامنے درخواست دائر کی تھی اور کہا تھا کہ اسے 18 سال قید کی سزا دی گئی تھی لیکن اسے چھوٹ نہیں ملی تھی، درخواست خارج کردی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مجرم کی عمر 38 سال ہے اور اس نے 18 سال جیل میں گزارے ہیں۔

تاہم ان کی سزا میں چھوٹ کی درخواست مسترد کردی گئی ہے۔ حقائق کے تحت ڈکیتی اور قتل سنگین جرائم ہیں۔ ڈکیتی کے دوران جیک، ٹائر اور ٹیپ لئے گئے۔ تاہم سامان بہت قیمتی نہیں تھا۔ حقائق اور حالات کے تحت یہ ٹھیک نہیں ہوگا کہ مجرم کو ہمیشہ کے لئے جیل میں رکھا جائے۔

انصاف کاتقاضہ ہے کہ ان کی جیل کی میعاد 22 سال تک بڑھا دی جائے۔ اس کی عمر اب 38 سال اور جوان ہے۔ اس معاملے میں آئی پی سی کی دفعہ 396 کے تحت اسے مجرم قرار دیا گیا ہے اور اسے 22 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button