نیویارک:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اقوام متحدہ کے ایک تازہ ترین مطالعے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد کی اموات کا سبب کام کے طویل اوقات کار بنتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے اندازوں کے مطابق 2016 ء میں دنیا بھر میں تین لاکھ اٹھانوے ہزار انسان اسٹروک یا اچانک دماغ کی رگ پھٹ جانے کا شکار ہوئے اور تین لاکھ سینتالیس ہزار دل کے عارضے میں مبتلا ہوئے جس کی وجہ ان کا ہفتہ وار 55 گھنٹوں سے زیادہ کام کرنا بنی۔
ان دونوں عالمی ادارں کی طرف سے پہلی بار کارکنوں کے کام کے اوقات کے بارے میں لگایا گیا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے متنبہ کیا ہے کہ کورونا بحران اس صورتحال میں مزید خرابی کا سبب بن سکتا ہے۔



