کسان رہنما راکیش ٹکیت نے کہا :پولیس کے زبردستی ہٹانے سے معاملہ حل نہیں ہوگا ، وائرل ویڈیو پر دوں گا تحریری جواب
نئی دہلی: ( اردودنیا.اِن) 26جنوری کے واقعے کے بعد سے زرعی قوانین کے خلاف جاری احتجاج میں عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کا ٹریکٹر مارچ بے قابو ہوچکا تھا ، جس کے بعد آئی ٹی او ، لال قلعہ اور نانگلوئی سمیت دہلی کے متعدد علاقوں میں کافی ہنگامہ ہوا ۔
اس سے متعلق دہلی پولیس نے 20 کسان رہنماؤں کے خلاف نوٹس جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ آپ کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جانی چاہئے؟کسان رہنما راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے ، ہم تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے۔ وی ایم سنگھ کے جانے پر ٹکیت نے کہا کہ ان کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑا ہے، جو کسان26 جنوری کو آئے تھے وہ چلے گئے ہیں۔
پولیس جانچ اور وائرل ویڈیو کے بارے میں ٹکیت نے کہا کہ پولیس نے میراجو ویڈیو دکھایا ہے ، میں اس کا جواب تحریری طور پر دوں گا۔ یہ ایک پرانی ویڈیو ہے۔ جب پولیس کے ساتھ فائنل بات چیت نہیں ہوئی تھی۔ یہ معاملہ بات چیت سے ہی حل کیا جاسکتا ہے ، پولیس کے زبردستی ہٹانے سے حل نہیں ہونے والا ہے۔
معاملہ 15-20 دن میں بات چیت کے ذریعے معاملے کو حل کیا جائے گا۔مغربی اتر پردیش کے باغپت میں ایک ہائیوے پر احتجاج کرنے والے کسانوں کو ہٹانے کی خبر ہے۔ بدھ کی رات یوپی پولیس نے ان کسانوں کو زبردستی یہاں سے ہٹادیا ہے۔ یوپی پولیس نے کسانوں کو ہٹانے کے لئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ایک نوٹس کا حوالہ دیا ہے ، جس میں تعمیراتی سرگرمیوں میں تاخیر ہوئی تھی۔




