قومی خبریں

کسانوں کومذہب،ذات پات میں نہیں بانٹ سکتے:راکیش ٹکیت

نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)مرکزی حکومت کے تینوں نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج میں 100 سے زیادہ دن گزر چکے ہیں۔ حکومت اور کسانوں کے مابین کوئی مذاکرات نہیں ہورہے ہیں۔ ادھر کسان رہنما راکیش ٹکیت نے کہاہے کہ انہیں دوبارہ دہلی میں داخل ہونا پڑے گا۔ بدھ کے روز راکیش ٹکیت نے ٹویٹ کیاہے کہ کسانوں کو ایک بار پھر دہلی میں داخل ہونا پڑے گا اور بیریکیڈ توڑنا پڑے گی۔

راکیش ٹکیت پورے ملک میں مختلف ریاستوں میں مہاپنچایت کا اہتمام کررہے ہیں۔جے پور کی کسان مہاپنچایت میں مرکز کو نشانہ بناتے ہوئے راکیش ٹکیت نے کہاہے کہ حکومت نے لوگوں کو ذات پات میں تقسیم کیا۔ اگر ضرورت پڑی تو وہ پارلیمنٹ میں بھی اپنی پیداواربیچیں گے۔

انہوں نے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے (حکومت) ذات پات تقسیم کردی ، اسے مذہب میں بانٹ دیا۔ اب کسان تقسیم نہیں ہونے والے ہیں۔جب کسانوں کو بتایا جائے گا توانہیں صرف دہلی کی طرف چلنا ہوگا۔ دہلی کے راستوں کو دوبارہ توڑنا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button