تلنگانہ کی خبریں

 کنگ کوٹھی ہاسپٹل میں بیٹے کی فریاد۔ کسی کے ڈسچارج یا مرنے تک بیڈ دستیاب نہ ہونے کی صورتحال

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن)کورونا کی دوسری لہر سے کئی خاندان بکھر گئے ہیں ۔ کورونا سے متاثر ہونے والے کئی افراد ہاسپٹلس کے چکر کاٹ رہے ہیں ۔ آکسیجن کی سطح گھٹ جانے پر سانس لینے میں تکلیف محسوس کرنے والے مریض بڑے پیمانے پر کنگ کوٹھی ہاسپٹل کو پہنچ رہے ہیں ۔ بیڈس نہ ہونے پر ہاسپٹل کے احاطہ میں ہی زمین پر مریضوں کو لیٹاتے ہوئے بیڈ خالی ہونے کا انتظار کررہے ہیں ۔ ہر منٹ ہاسپٹل کے طبی عملہ اور اٹنڈرس سے ربط پیدا کرتے ہوئے بیڈس کے بارے میں دریافت کررہے ہیں ۔
کنگ کوٹھی میں جملہ 350 بیڈس ہیں جو مکمل طور پر پر ہوچکے ہیں ۔ ہاسپٹل سے کوئی ڈسچارج ہونے یا کسی کے مرنے تک دوسروں کو بیڈ ملنے کے امکانات نہیں ہیں ۔ ایک ضعیف خاتون کورونا سے متاثر ہوکر پازیٹیو رپورٹ کے ساتھ کنگ کوٹھی ہاسپٹل کو پہنچی ، تاہم ہاسپٹل میں بیڈ نہ ہونے کی وجہ اس خاتون کو ہاسپٹل کے احاطہ میں لیٹا دیا گیا ۔
اس خاتون کا بیٹا ڈاکٹرس سے اپیل کررہا ہے کہ میری ماں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے ۔ مہربانی کر کے ایک بیڈ کا انتظام کریں ۔ ہاسپٹل کے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہم علاج کرنے کیلئے تیار ہیں مگر ہاسپٹل میں بیڈ خالی نہیں ہے ۔ ریاست میں کورونا کی دوسری لہر شدت اختیار کرنے کے ساتھ ہی کیسیس اور اموات کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک ہفتہ سے کورونا ٹسٹ کرنے کی تعداد گھٹ گئی ہے لیکن کیس اور اموات کی تعداد بڑھ گئی ہے ۔
ایک ہفتہ قبل تک محکمہ صحت کے جاری کردہ بلیٹن میں بتایا جارہا تھا کہ روزانہ ایک لاکھ سے زیادہ کورونا ٹسٹ کرائے جارہے تھے جس سے ایک دن میں کورونا متاثرین کی تعداد بڑھ کر 10ہزار اور مرنے والوں کی تعداد 58 تک پہنچ گئی تھی ۔ تاہم ایک ہفتہ سے روزانہ 70ہزار تک ٹسٹ کرائے جارہے ہیں اور 50 سے زائد اموات ہورہی ہیں ۔ اس پر حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button