
معذورین ، حاملہ اور مختلف امراض میں مبتلا ٹیچرس کو انتخابی ذمہ داریوں سے استثنیٰ دینے ٹیچرس تنظیموں کا مطالبہ
تلنگانہ:(اردودنیا.اِن) کورونا سے متاثر ہو کر گذشتہ ایک ماہ کے دوران ریاست میں 40 گورنمنٹ ٹیچرس نے دم توڑ دیا ہے ۔ جس میں سب سے زیادہ گریٹر حیدرآباد میں 25 اور متحدہ ضلع عادل آباد کے حدود میں 12 گورنمنٹ ٹیچرس شامل ہیں ۔ جس کے بعد گورنمنٹ ٹیچرس انتخابی ذمہ داریاں نبھانے سے گھبرا رہے ہیں ۔ تلنگانہ میں کورونا کی دوسری لہر کا قہر جاری ہے ۔ نئے پازیٹیو کیسیس کے ساتھ اموات کی تعداد میں روزانہ ایک نیا ریکارڈ قائم ہورہا ہے ۔ شہری علاقوں کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی کورونا کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے ۔
جس سے عوام میں خوف و دہشت کی لہر پائی جاتی ہے ۔ لوگ بڑے پیمانے پر ٹیکہ لینے اور کورونا کا ٹسٹ کرانے کے لیے سرکاری و خانگی مراکز کا رخ کررہے ہیں ۔ حیدرآباد میں چار دن قبل ایک ، اس طرح ایک ماہ کے دوران 26 گورنمنٹ ٹیچرس کورونا سے متاثر اپنی زندگیوں سے محروم ہوگئے ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ مرنے والی تمام خواتین ٹیچرس ہیں ۔
ضلع رنگاریڈی میں دو دن قبل ایک پی ای ٹی اور ایک تلگو پنڈت کا انتقال ہوگیا ۔ ضلع جگتیال میں 2 ضلع کمرم بھیم آصف آباد ، ضلع کاماریڈی ضلع محبوب نگر میں ایک ایک ۔ ضلع منچریال میں ایک پرنسپل کی موت واقع ہوگئی ۔ اس طرح ماہ مارچ میں 20 گورنمنٹ ٹیچرس کورونا سے فوت ہوگئے ۔
گورنمنٹ ٹیچرس کی مختلف اسوسی ایشن نے کورونا سے متاثر ہو کر ٹیچرس کی اموات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا کے قہر کو پیش نظر رکھتے ہوئے 2 کارپوریشن ، 5 میونسپلٹیز کے 30 اپریل کو منعقد ہونے والے انتخابات 2 مئی کو اسمبلی حلقہ ناگر جنا ساگر کے ضمنی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی اور 3 مئی کو کارپوریشنس اور بلدیات کے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی سے معذور ، حاملہ اور مختلف امراض میں مبتلا گورنمنٹ ٹیچرس کو دور رکھنے کا مطالبہ کیا-



