تلنگانہ کی خبریں

کورونا سے نمٹنے کے طریقہ کار پر ریاستی حکومت پر تلنگانہ ہائی کورٹ کی برہمی

 ٹسٹوں میں کمی کے ذریعہ کم کیسس کا اظہار، چیف سکریٹری پر ناراضگی کا اظہار

تلنگانہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ریاست میں کورونا پر قابو پانے کیلئے حکومت کی جانب سے کئے جارہے اقدامات پر ہائی کورٹ نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کے نفاذ کے سلسلہ میں حکومت سے وضاحت طلب کی۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے آج خصوصی طور پر کورونا کیسس کی صورتحال پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایک سے زائد مرتبہ حکومت پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ایک مرحلہ پر وارننگ دی کہ اگر حکومت کے رویہ میں تبدیلی نہیں آئے گی تو توہین عدالت کی نوٹس جاری کی جائے گی۔ عدالت نے ریاست میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بجائے کیسس کی تعداد کم ظاہر کرنے پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ ٹسٹوں کی تعداد میں کمی کے ذریعہ کیسس کی تعداد کو کم ظاہر کیا جارہا ہے۔

عدالت نے حکومت کو دوپہر ڈھائی بجے تک کا وقت دیا اور ایڈوکیٹ جنرل کو ہدایت دی کہ وہ حکومت کے فیصلہ سے واقف کرائے کہ آیا ریاست میں لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے گا یا نہیں۔ عدالت کی مہلت کے بعد تلنگانہ کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں 10 روزہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا جس کا نفاذ چہارشنبہ 12 مئی سے ہوگا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے تلنگانہ کے چیف سکریٹری سومیش کمار کے رویہ پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے وقت جبکہ عدالت میں کورونا معاملہ کی سماعت جاری تھی سومیش کمار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کورونا کی صورتحال کو قابو میں اور لاک ڈاؤن کی ضرورت سے انکار کیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر حکومت کوئی فیصلہ نہیں کرتی ہے تو پھر عدالت کو احکامات جاری کرنے پڑیں گے۔ چیف جسٹس نے کنگ کوٹھی ہاسپٹل میں آکسیجن کی کمی کے نتیجہ میں 3 مریضوں کی موت کے واقعہ کے سلسلہ میں حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ آکسیجن کی سربراہی میں رکاوٹ کس طرح ہوئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ریاست کیلئے آکسیجن کی ضرورت کتنی ہے اور مرکز کی جانب سے کس قدر آکسیجن سربراہ کی جارہی ہے اس کی تفصیلات عدالت کو بتائی جائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جس دن ہائی کورٹ نے احکامات جاری کئے اسی دن چیف سکریٹری نے پریس کانفرنس رکھتے ہوئے کہا تھا کہ لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں ہے۔ کس طرح چیف سکریٹری یہ بیان دے سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ ہم لاک ڈاؤن کی ضرورت پر غور کررہے تھے چیف سکریٹری کی جانب سے اس طرح کا بیان مناسب نہیں ہے۔

عدالت نے کہا کہ کیا لاک ڈاؤن کے نفاذ کیلئے حکومت کو رمضان المبارک کے اختتام کا انتظار ہے۔ چیف جسٹس نے دیگر ریاستوں سے آنے والے مریضوں کی ایمبولنس گاڑیوں کو تلنگانہ کی سرحد پر روکنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ حکومت کو محض یہ ہدایت دی گئی تھی کہ دیگر ریاستوں سے آنے والی ایمبولنس میں موجود افراد کا کورونا ٹسٹ کیا جائے لیکن حکام ایمبولنس گاڑیوں کو روک رہے ہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ ایمبولنس گاڑیوں کو روکنے کے احکامات کس نے جاری کئے تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ٹسٹوں کی تعداد میں کمی کرتے ہوئے کس طرح یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ کیسس کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ ڈیویژن بنچ نے ریمارک کیا کہ پرانے شہر کے علاقوں میں عوام سڑک پر بے ہنگم ہجوم کی شکل میں گھوم رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی۔ چیف جسٹس نے کورونا ٹسٹوں میں کمی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو توہین عدالت نوٹس جاری کرنے کی وارننگ دی۔

عدالت نے کہا کہ ٹسٹوں کی تعداد میں اضافہ کی ہدایت پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پرانے شہر میں کوویڈ قواعد پر کوئی عمل آوری نہیں ہورہی ہے۔ ہائی کورٹ کی سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل کو حکومت کے موقف کی وضاحت میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button