گوالیار:(اردودنیا.اِن)مدھیہ پردیش کے گوالیار میں نجی ہسپتال کے ذریعہ قائم ہوٹل میں کووڈ سنٹر میں 50 سالہ خاتون کے ساتھ زیادتی کی کوشش کرنے کے الزام میں وارڈ بوائے کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ گوالیار کی ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس نے بتایا کہ ہوٹل گولڈن ولیج میں لوٹس ہاسپٹل کے ذریعہ قائم کووڈ سنٹر میں 50 سالہ خاتون کورونا مریض کی حیثیت سے داخل کیا گیا تھا۔
ہفتہ تا اتوار کی درمیانی شب وارڈ بوائے ویویک لودھی نے اس کے ساتھ دو بار جنسی زیادتی کی کوشش کی ،اور خاتون اور اس کے اہل خانہ کی جانب سے شور مچانے پر بھاگ گیا۔انہوں نے کہاکہ اس کے بعد پولیس کی ایک ٹیم کو ملزم وارڈ بوائے ویوک لودھی کی گرفتاری کے لئے متعین کردیا۔
متاثرہ کے جیٹھ نے کہا کہ متأثرہ کو16 اپریل کو کرونا علاج کے لئے شیوپوری سے گوالیار میں لوٹس اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، اسے اسپتال نے اسے گولڈن ویلج ہوٹل میں قائم کوویڈ سنٹر میں داخل کرایا۔ مریضہ کی آکسیجن کی سطح بھی کم تھی اور اسے آکسیجن دی جارہی تھی۔انہوں نے کہا کہ 17اپریل کی شب گیارہ بجے کے قریب وارڈ بوائے ویوک لودھی نے مریضہ سے پوچھا کہ کیا آپ کو کوئی پریشانی تو نہیں؟ جب اس خاتون نے کہا کہ اسے یہ سب پسند نہیں ہے تو پھر وارڈ بوائے لودھی نے علاج کے بہانے کپڑوں کے اندر ہاتھ رکھ کربدتمیزی کرنی شروع کی۔
احتجاج کے بعد وارڈ بوائے وہاں سے چلا گیا ، لیکن رات کے 12 بجے پھر دوبارہ آیا اور اس کے ساتھ زیادتی کی کوشش کرنے لگا۔ جب عورت نے شور مچایا تو مریضہ کے اہل خانہ بھی آگئے ۔فیملی نے فوری طور پر وہاں پر تعینات ڈاکٹر پرشانت اگروال کو فون کیا۔ ادھر ڈاکٹر اور دیگر پیرامیڈیکل عملے نے ملزم وارڈ بوائے کو بھگا دیا اور مریضہ کے اہل خانہ کے ساتھ مارپیٹ کی۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد کنبے کے تمام افراد کمپو پولیس اسٹیشن پہنچے، اور ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 376 اور 354 کے تحت مقدمہ درج کیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے ڈاکٹر اگروال کیخلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔ خاتون کے رشتے دار کے مطابق ڈاکٹر اگروال نے ملزم وارڈ بوائے کو وہاں سے فرار ہونے میں مدد بھی کی ہے۔ جب معاملہ سنگین ہوگیا تو پولیس نے ملزم کی تلاش شروع کی۔بعد ازاں ملزم وارڈ بوائے کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔



