بین الاقوامی خبریںدلچسپ خبریں

کھانا مانگنے والی بچی کو 38 سال تک غلام بنا کر رکھا گیا

 

ریو ڈی جنیرو:(ویب ڈیسک2)بھوک کی ماری کم سن بچی ماڈالینا گوردیانو نے جس گھر کے دروازے پر کھانے کے لیے دستک دی تھی، اسے اسی گھر میں اڑتیس سال تک غلام بنا کر رکھا گیا۔ اب اسے رہائی مل گئی ہے لیکن اس کی المناک داستان پر پورا برازیل شرمندہ ہے۔ایک روز لیبر انسپکٹر ہْمبیرٹو کاماسمیے اور ان کے ساتھیوں نے ایک عدالت کی طرف سے اجازت لینے کے بعد ایک گھر کی تلاشی لی۔ عام طور پر وہ صرف فیکٹریوں اور زرعی فارموں کی تلاشی لیتے تھے۔ لیکن اس مرتبہ ٹارگٹ ایک گھر تھا،

وہ بھی برازیل کے وفاقی صوبے میناس گیرائس میں اور مقصد غلاموں کے سے حالات میں جبری مشقت کرنے والے ایک انسان کو رہا کروانا۔یہ گھر پاتوس دے میناس نامی شہر میں ایک یونیورسٹی پروفیسر کا گھر تھا اور ہمسایوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ اس گھر میں کچھ نا کچھ بہت غلط ہو رہا ہے۔ ہمسایوں نے دیکھا تھا کہ جب بھی گھر کا مالک اپنی ملازمہ ماڈالینا کو کسی سے بھی بات کرتے دیکھتا، تو شدید ناراض ہوتا اور ماڈالینا سہم کر کانپنے لگتی تھی۔

پھر اس پروفیسر کے ہمسائے اس وقت اور بھی پریشان ہو گئے، جب ماڈالینا نے ایک دن ان کے گھر کے دروازے کے سامنے رکھی گئی چٹائی کے نیچے ایک چھوٹا سا تحریری پیغام اس منت کے ساتھ چھوڑا کہ اسے بطور خاتون حفظان صحت سے متعلق چند اشیاء کی ضرورت ہے اور بہت تھوڑی سی رقم کی بھی۔ اس طرح ماڈالینا کے حالات زندگی اور بھی مشکوک ہو گئے تھے۔لیبر انسپکٹر کاماسمیے نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پروفیسر کے گھر پر چھاپا مارا، تو سب کچھ واضح ہو گیا۔

ماڈالینا وہاں غلاموں کی سی زندگی گزار رہی تھی۔ اسے نا کوئی مناسب اجرت ادا کی جاتی تھی اور نا ہی ملازمہ کے طور پر آمدنی کی حوالے سے اس کا کوئی ٹیکس ریکارڈ تھا۔ اس کے علاوہ اس کے کام کاج کے کوئی باقاعدہ طے شدہ اوقات بھی نہیں تھے اور اسے سال بھر کوئی چھٹی بھی نہیں ملتی تھی۔ ماڈالینا پروفیسر دالٹن ریگیرا اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتے ہوئے ایک ایسے کمرے میں رہتی تھی، جس کا رقبہ صرف پانچ مربع میٹر تھا اور جس میں کوئی کھڑکی بھی نہیں تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button