
13 اپریل کوسپریم کورٹ میں ہوگی سماعت
نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)سپریم کورٹ اس وقت کے گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی کوگجرات فساد میں مجرم ٹھہرانے سے کلین چٹ ملنے کے خلاف دائر درخواست پر 13 اپریل کوسماعت کرے گا۔سابق ایم پی احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری نے یہ عرضی داخل کی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ وہ اگلی تاریخ کو سماعت کرے گی اور سماعت ملتوی کرنے کی تجویزپر غور نہیں کرے گی۔
سپریم کورٹ کے جسٹس اے ایم خان ویلکر کی سربراہی میں بنچ کے سامنے ذکیہ جعفری کی طرف سے پیش سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے کہا کہ اس کیس کی سماعت اپریل کے مہینے میں کسی بھی دن ہونی چاہئے کیونکہ متعدد وکلاء مراٹھا ریزرویشن کیس کی سماعت میں مصروف ہیں۔
اس کے بعد گجرات حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسیٹر جنرل تشار مہتانے کہا کہ اگلے ہفتے اس کیس کی سماعت ہونی چاہئے۔ ایس آئی ٹی کی طرف سے پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ مکل روہتگی نے کہا کہ درخواست پر سماعت ملتوی نہیں کی جانی چاہئے۔ معاملے میں جلد فیصلہ لیا جانا چاہئے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ 13 اپریل کو سماعت کرے گا اور سماعت ملتوی ہونے کی اپیل پر غور نہیں کرے گا۔گذشتہ سال 4 فروری کو سپریم کورٹ نے ذکیہ جعفری کی درخواست پر سماعت کے لئے 14 اپریل 2020 کی تاریخ مقرر کی تھی۔
درخواست گزار نے سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے لئے اپیل کی تھی ، جس پر سپریم کورٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی سماعت متعدد بار ملتوی کردی گئی ہے۔ گذشتہ سال سپریم کورٹ کے جسٹس اے ایم کھانو یلکر اور جسٹس دنیش مہیشوری کی بنچ کے سامنے ذکیہ جعفری کے وکیل اپرنا بھٹ نے کہا تھا کہ اس کیس کی سماعت ملتوی کردی جانی چاہئے اور اس کی سماعت ہولی کے بعد ہونی چاہئے۔
ذکیہ جعفری کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست پر سپریم کورٹ نے تبصرہ کیا تھا کہ اس کیس میں سماعت متعدد بار ملتوی کردی گئی ہے، اگلی تاریخ لیجئے، لیکن اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام فریق موجود ہوں۔ درخواست گزار ذکیہ جعفری نے گجرات فسادات کے معاملے میں اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی کو دئے گئے کلین چٹ کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔



