بین ریاستی خبریں

گجرات میں کوویڈ۔۱۹؍کی شرح اموات بے قابو

دیانت دارذرائع ابلاغ سرکارکے غلط دعوؤں کیخلاف سرگرم

ممبئی:(نامہ نگار)گذشتہ برس کے برعکس امسال گجرات میں صرف ایک دن میں ۶۷؍کویڈ۔۱۹؍کی شرح اموات ۶۷؍اور۶۶۹۰؍نئے کیس درج کئے گئے۔سوشیل میڈیا پر اسکرول ان کیلئے صحافی عارفہ جوہر ی نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئےاس معاملہ میں سرکارکی جانب سے کویڈ۔۱۹؍کے نئے کیس اورشرح اموات چھپانے کی مبینہ کوشش بے نقاب کرنے کادعوی کیاہے۔صحافی کے مطابق گجرات کے ذرائع ابلاغ پرنٹ اورالیکٹرونک انگریزی اورگجراتی میڈیا نے کویڈ۔۱۹؍سے متعلق شرح اموات پرسرکاری ذرائع کی جانکاری اور شمشان بھومی اورقبرستان سے جمع کردہ مصدقہ تعداداموات کے ریکارڈ میں امتیازی فرق کی نشاندہی کی ہے۔

احمدآبادمیں ۱۲؍اپریل ۲۰۲۱؍کو سرکاری ذرائع نے کویڈ۔۱۹؍کی شرح اموات ۲۰؍ظاہرکی۔برعکس اسکےگجرات کے ناموراخبارسندیش نے یہاں واقع صرف ایک کویڈ ۔۱۹؍اسپتال میں ۶۳؍شراح اموات کی تصدیق کی ہے۔سندیش نے اپنے دعوے کی تصدیق کاثبوت پیش کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ اخبارکے صحافی ٹیم نے ۱۲؍اپریل کی نصف شب سے احمدآبادسول اسپتا ل کے باہر باقاعدہ ۱۷؍گھنٹے کیمپ کے بعدکویڈ۔۱۹؍کی شرح اموات ریکارڈ کی ہے۔گجرات کے وزیراعلی وجے روپانی باربار یہی دہرارہے ہیں کہ حکومت کویڈ۔۱۹؍کی شرح اموات پرمبالغہ آرائی نہیں کر ر ہی ہے۔

حکومت کے اس دعوے کوصحافی ٹیم نے غلط قراردیاہے۔ثبوت کے طورپرسندیش کی خبرکاحوالہ دیتے ہوئے کہاگیاہے کہ احمدآبادکے صرف ایک کویڈ اسپتال سے ۶۳؍مہلوکین کی لاشیں باہرلائی گئی ہیں ،تب شہرمیں موجودکئی دیگراسپتالوں کے بارے میں کیاکہاجاسکتاہے اورکیسے یقین کیاجاسکتاہے کہ کویڈ۔۱۹؍سے صرف ۲۰؍ہی لوگ مرے ہیں۔اسطرح جام نگرکی مثال دی گئی ہے۔یہاں واقع سرکاری گر وگوبندسنگھ اسپتال میں موربی،راجکوٹ،جوناگڑھ اورامربلی علاقوں سے بیشمارکویڈکے مریض زیرعلاج ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہاں صرف ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔برعکس اسکے معروف اخبار گجرات نے ۴۸؍گھنٹوں میں جام نگرمیں ۱۰۰؍مریضوں کی موت کی تصدیق کی ہے۔نیوزچینل ٹی وی ۹؍گجراتی نے بتایاکہ گروگویندسنگھ اسپتال میں صرف ۲۴؍گھنٹوں میں ۶۴؍لوگ کویڈ۔۱۹؍کاشکارہوئے ہیں۔خبرگجرات کے رپورٹرپری اھیرنے بتایاکہ شہرمیں واقع دوشمشان بھومیوں سے جمع کردہ شرح اموات کامذکورہ ریکارڈ پیش کیاگیاہے۔اسکرول ان نے جانکاری دی کہ جام نگرکے اسپتال اورمیونسپل کارپوریشن کے ذمہ داران سے رابطہ قائم کرنے پرکوئی جواب نہیں دیاگیا۔

سورت میں صرف دودنوں میں ۲۲؍شرح اموات درج کی گئی ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق رام ناتھ گھیلااورکروک شیترشمشان بھو میو ں میں روزانہ ۸۰؍لاشوں کونذرآتش کیاگیا۔نیوزچینل ٹی وی ۹؍نے دلسوزاطلاع دی کہ رام ناتھ گھیلاشمشان بھومی سے قریب ایک کھلی جگہ پر ۱۱؍اپریل کو۲۵؍لاشیں ایک ہی وقت نذرآتش کی گئیں۔یہ گراؤنڈسورت میونسپل کارپوریشن کی اجازت سے استعمال کیاگیا۔

قبرستانوں سے متعلق موصولہ جانکاری کے مطابق اپریل کے شروع دنوں میں احمدآبادکے سنی وقف بورڈکے تحت موسی سہاگ قبرستان میں ۷۰؍مریضوں کی لاشیں دفنائی گئیں۔سنی وقف بورڈکے ذمہ داررضوان قادری نے بتایاکہ ۷۰؍میں سے صرف ۷؍کویڈمریضوں کی اموات کاسرکاری دعوی کیاگیاہے،لیکن صحیح یہی ہے کہ زیادہ تعدادمیں لوگ مرے ہیں اوراس قبرستان میں دفن کئے گئے۔

قادری نے یہ حقیقت بھی بیان کی کہ اسپتال کے باہر ایمبولنس کی طویل قطاردیکھی گئی جس کامطلب یہی ہے کہ حالات قابومیں ہونے کاسرکاری دعوی غلط ہے۔ حا ل ہی میں کوویڈسے متعلق گجرات کی صورتحال سے متعلق ریاستی حکومت بمقابلہ میڈیاکیس کے بارے میں ہائیکورٹ نے میڈیاکے خلاف غلط بیانی کے الزامات کوردکردیاہے۔ہائی کورٹ کے مطابق اخبارات بے بنیاد خبریں شائع کرکے اپنے وقارکوداؤپرنہیں لگاسکتے۔اسی درمیان اسکرول ان نے ریاست کے محکمہ صحت سے جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کی،لیکن جواب نہیں ملا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button