اترپردیش:29/ڈسمبر(ایجنسیز) مقامی پولس نے ایک مسلم لڑکےجس کانام جبریل بتایاجاتاہے۔اس کے خاندان کے ۱۳؍افراد جس میں ایک بیوہ اورمعذورشخص شامل ہیں۔اترپردیش میں نافذالعمل جبراً مذہب تبدیلی قانون کے تحت گرفتارکرلیاہے۔مووی پرنٹ کے توسط سے موصولہ خبروں کے مطابق یوپی کے سیتاپورگاؤں کی ۱۹؍سالہ ایک ہندولڑکی نیتوشکلانے گھرسے دولاکھ روپیہ اورزیورات لیکرفرارہوگئی۔تلاش کرنے میں ناکام ہونے پرنیتوشکلاکے والدین تمبورپولس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ایک ہفتہ کے بعدنیتوکے والدین کوپتہ چلاکہ انکی لڑکی قریب ہی رہائش پذیر۲۹؍سالہ جبریل نامی ایک مسلم لڑکے کیساتھ روپوش ہوگئی ہے۔پولس کومطلع کرنے پرمسلم لڑکے کے تمام خاندان افرادجسس میں اسکی بیوہ ماں بھی شامل ہے۔ریاست میں نافذالعمل جبراً تبدیلی مذہب قانون کے تحت مفرورجوڑے کومدد کرنے کی ساز ش کے تحت گرفتارکرلیاہے۔مزیدجانکاری کے مطابق ۱۸؍جنوری تک خودکوپولس کے سپردنہ کرنے پرجبریل کومفرورملزم ٹھہرایاجائیگا۔