قومی خبریں

یوپی میں لوجہاد قانون کی آڑ میں ظلم وجبر کا بازار گرم

بجنور(ایجنسی) اترپردیش میں ۲۸؍نومبر۲۰۲۰؍سے نافذالعمل غیرقانونی تبدیلی مذہب آرڈیننس کافائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوتنظیمات نے بشمول عدالتی عملہ،ریاست بھرمیں خبری نیٹ ورک شروع کرنے کادعوی کیاہے۔چتینہ برنن،پون رستوگی۔مونو شونوئی،کے ڈی شرما،راجیش اوستھی اورانوبھوشکلاچندایسے اعلی حیثیت کے کارکنان ہیں،

جومختلف ہندوتنظیمات سے وابستہ رہ کر ہندولڑکی کومسلم لڑکے سے شادی کرنے سے نہ صرف منع کرتے ہیں بلکہ عملی طورپرزبردستی ہندولڑکی کی شادی صرف دودنوں میں ہندولڑکے سے کرکے بین المذہبی شادی ناکام بنانے میں فخرمحسوس کرتے ہیں۔سوشل میڈیاپردی پرنٹ سے ملی جانکاری کے مطابق اترپردیش میں عوامی جگہوں کے علاوہ پولس اورعدالتی عملہ میں بھی خبری چھوڑے گئے ہیں

جونیٹ ورک کااستعمال کرکے بین المذہبی شادی شدہ جوڑے کوشادی رجسٹرکرنے یاکسی بھی طرح شادی کوقانونی بنانے سے پہلے ہی انہیں دبوچ لیتےہیں۔مزیدجانکاری کے مطابق ہندولڑکی کی زبردستی کسی ہندوخاندان میں شادی کرادی جاتی ہے،جبکہ مسلم لڑکے کومارپیٹ اوردھمکا کربھگا دیا جاتا ہے۔

خبر و ں کے مطابق صدرراشٹریواواہنی،کے ڈی شرمانے کھلے عام مسلمانوں پرالزام لگایاہے کہ ہندولڑکی سے شادی کرنے پرمسلم لڑکے کوغیرممالک سے لاکھوں روپیہ حوصلہ افزائی فنڈکے طورپرفراہم کیاجاتا ہے ۔ ہند ویواواہنی تنظیم سے وابستہ انوبھوشکلاکاکہناہے کہ ہزاروں میں صرف ایک معاملہ ایساہوتاہے جس میں مسلم لڑکے کوواقعی ہندولڑکی سے عشق ہوتاہے،بقیہ معاملات سازشی اورجبراً بین المذہبی شادی پرمبنی ہو تے ہیں جنہیں روکنے کیلئے ہمارے آدمی ہرجگہ تیاررہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button