سیاسی و مذہبی مضامین

استاد کا ادب و احترام

استاد کا ادب و احترام

بقلم خود : محمد شعیب اکمل

پڑوسی ملک کے ادیب ، دانشور اور ماہر تعلیم جناب اشفاق احمد صاحب مرحوم کہتے ہیں کہ جب وہ اٹلی میں اپنی تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے، تب ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کی پاداش میں ان کا چالان کیا گیا ۔اپنی مصروفیت کی وجہ سے جب انھوں نے چالان وقت پر ادانہ کرسکتے، تب ان کو چالان کی وقت پر عدم ادائیگی کے سبب کورٹ جانا پڑا، جج کے سامنے پیش ہوئے تو اس نے وجہ پوچھی، میں نے کہا پروفیسر ہوں مصروف ایسا رہا کہ چالان ادا کرنے کا وقت ہی نہیں ملا، اس سے پہلے کہ میں اپنی بات پوری کرتا جج نے کہا

A TEACHER IS IN THE COURT

اتنا سننا تھا کہ کورٹ کے اندر موجود سارا اسٹاف کھڑا ہوگیا، اسکے بعد جج نے مجھ سے معافی مانگ کر میرا چالان کینسل کردیا۔۔۔ اس روز میں اس قوم کی ترقی کا راز جان گیا..
.
ترقی یافتہ قوموں نے علم اور استاد کو جو عزت دی ہمارے ہاں اس کا تصور بھی محال ہے، ہمارے یہاں تو اسکول کے ماحول میں ہر ماسٹر کا عرف رکھا جاتا ہے، جسکی وجہ سے آج ہم ہر میدان اور ہر محاذ میں دھتکارے جارہے ہیں..

اسی لیے تو کہتے ہیں کہ …باادب بانصیب ۔ بے ادب بے نصیب …اور یہی زندگی کا ماحصل ہے۔ انسان اس وقت تک علم نہ تو حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی اپنے علم سے نفع اٹھا سکتا ہے جب تک وہ ان تین چیزوں کا ادب نہ کرے

جس سے پڑھا
جہاں پڑھا
جس کو پڑھا

اگر کسی صاحب علم کو ان تین چیزوں کا ادب نہیں تو سمجھو یہ علم و کمال اس کیلئے وبال جان بن سکتا ہے
.
کسی نے کیا خوب کہا ہے
ما وصل من وصل الا بالحرمة
وما سقط من سقط الا بترك الحرمة
ترجمہ : جس نے جو پایا ادب و احترام کے سبب پایا
اور جس نے جو کھویا ادب و احترام نہ کرنے کے سبب کھویا
.
اور کہاجاتا ہے کہ
الحرمة خير من الطاعة
ادب و احترام کرنا اطاعت کرنے سے بہتر ہے
جیسا کہ انسان گناہ کرنے کی وجہ سے کبھی کافر نہیں ہوتا بلکہ اسے ہلکا سمجھنے کی وجہ سے کافر ہوجاتا ہے
.
ایک عربی کہاوت ہے کہ
ليس يتيم الذي مات ابوه
بل يتيم الذي مات ادبه
ترجمہ : یتیم وہ نہیں جس کا باپ مرگیا ہو
بلکہ یتیم تو وہ ہے جس کا ادب ختم ہوگیا ہو
اسے ادب نہ رہا ہو اور بے باک ہوگیا ہو
.
اس لئے تو کہتے ہیں کہ جس سے پڑھا اس کا ادب کرنا ضروری ہے کیونکہ استاد کی تعظیم بھی علم کی تعظیم ہے، انسان جس سے بھی کچھ سیکھے اس کا احترام فرض ہے۔ اگر سیکھنے والا ، سکھانے والے کا احترام نہیں کرتا تو وہ علم محض *رٹا* ہے۔ حفظ بےمعرفت گفتار ہے، اس میں اعمال کا حسن نہیں ، گویا وہ علم جو عمل سے بیگانہ ہووہ ایک بے معنی لفظ ہے ۔ علم کسی بھی نوعیت کا ہو ۔اس کا عطا کرنے والا بہر حال قابلِ عزت ہے اور جب تک ادب و احترام کا جذبہ دل کی گہرائیوں سے نہیں اٹھے گا تب تک نہ علم کا گلزار مہک سکے گا اور نہ ہی علم ،
.
اج سے چودہ سو سال پہلے اللہ سبحانہ و تعالی نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے ایک ایسی ہستی کو بھیجا جنہوں نے دنیا کو تہذیب انسانیت اور رہن سہن کے ایسے طریقے بتاےَ جو تاریخ میں سنہرے حروف میں درج ہیں
اور ایسی مثالیں دیں کہ انسانوں کے لیے رہنمائ حاصل کرنا آسان ہو گیا۔ اللہ تعالی نے آپّ ﷺ کو *معلم انسانیت* بنا کر بھیجا۔ آپّ ﷺ نے فرمایا : بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا آپّ ﷺ نے استاد کی حیثیت سےہماری ہنمائ کو اپنا فرض العین سمجھا اور جو کچھ کہا اس کو عملی طور پر کر کے دکھایا آپّ ﷺ نے اساتذہ کی قدر اہمیت اور عزت پر بہت زور دیا ہے۔
.
پوری دنیائے انسانیت کے معلم اعلیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ: "علم سیکھو اور علم کے لیے سکینت اور وقار سیکھو اور جس سے علم حاصل کرو اس سے تواضع سے پیش آؤ۔” ( طبرانی )
.
بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا : *ليس منّا……… مَنْ لم يَعْرِفْ لعالِمِنا حقَّهُ*
صحيح الجامع ٥٤٤٣.
یعنی جو ہمارے علماء کرام یا معلمین کے حقوق کی پاسداری نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں.
.
یہ بھی یاد رہے کہ استاد صرف وہی نہیں، جنہوں نے ہمیں صرف اسکولوں پڑھایا ہے، بلکہ ہر وہ شخص ہمارا استاذ ہے جس سے زندگی میں کچھ نہ کچھ سیکھنا نصیب ہوا ہے، استاد کے زمرے، سارے علمائے دین، سارے ائمہ مساجد اور سارے خطیب و واعظین آتے ہیں، یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ استاد کی حیثیت روحانی باپ کی سی ہے اور ہر عظیم انسان کے دل میں اپنے اساتذہ کے احترام کے لیے بے پایاں جذبات ہوتے ہیں یہی اس کی عظمت کی دلیل ہے، اس سلسلے میں کچھ مثالیں پیش کرنے لگاہوں ۔
.
سکندر استاد کا بے حد احترام کرتا تھا ۔ کسی نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو سکندر نے جواب دیا ، میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا ۔ جبکہ میرا استا د ’’ارسطو‘‘ مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا ۔ میرا باپ باعث حیات ِ فانی ہے اور استاد موجب حیات جاوداں ۔ میر ا باپ میرے جسم کی پرورش کرتا ہے اور استاد میری روح کی
.
حضرت علی المرتضی شیر خدا فرماتے ہیں *انا عبد من علمني حرفا واحدا ان شاء باع و ان شاء اعتق و ان شاء استرق*
ترجمہ : جس نے مجھے ایک حرف سیکھایا میں اسکا غلام ہوں چاہے اب مجھے بیچ دے، چاہے تو آزاد کر دے چاہے تو غلام بنا کر رکھے
.
روایتوں میں آتا ہے کہ جب معلم کائنات صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں تشریف فرما ہوتے، صحابہ کرام علیہم الرضوان اس طرح ہمہ تن گوش ہوکر بیٹھتے گویا کہ پرندے انکے سروں پہ بیٹھے ہیں
.
حضرت حلوانی رحمہ الله عليه فرماتے ہیں، جو شخص اپنے استاذ کیلئے اذیت و تکلیف کا باعث بنتا ہے وہ علم کی برکتوں سے محروم ہو جاتا ہے
.
بعض اکابرین کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ، اگر تمہارا اپنے کسی استاذ سے کسی مسئلے میں اختلاف ہو جائے اگرچہ کہ تمہاری بات صحیح یو، تب بھی، تو استاد کو حق جانو کیونکہ اس میں کوئی ایسی مصلحت ہو جس کو تم جانتے نہیں
.
خلیفہ وقت ’’ہارون الرشید‘‘ نے معلم وقت امام مالک سے درخواست کی کہ وہ انہیں حدیث پڑھا دیا کریں۔ امام مالک نے فرمایا :۔ ’’علم کے پاس لوگ آتے ہیں، علم لوگوں کے پاس نہیں جایا کرتا ۔ تم کچھ سیکھنا چاہتے ہو تو میرے حلقہ درس میں آسکتے ہو‘‘ ۔
خلیفہ آیا اور حلقہء درس میں دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔ عظیم معلم نے ڈانٹ پلائی اورفرمایا:۔
خدا کی تعظیم میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان اور اہل علم کا احترام کیا جائے ۔ یہ سنتے ہیں خلیفہ شاگردانہ انداز میں بیٹھ گیا.
.
حضور ﷺ کے چچا کے بیٹے عبداللہ ابن عباسؓ کسی صحابی سے کوئی حدیث حاصل کر نے جاتے تو جا کر اس کے دروازے پر بیٹھ رہتے۔ اس کا دروازہ کھٹکھٹانا بھی ادب کے خلاف سمجھتے اور جب وہ صحابی خود ہی کسی کا م سے باہر نکلتے تو ان سے حدیث پوچھتے اور اس دوران سخت گرمی میں پسینہ بہتا رہتا، لو چلتی رہتی اور یہ برداشت کرتے رہتے۔ وہ صحابی شرمندہ ہوتے اور کہتے کہ آپ تو رسول اللہ کے چچا کے بیٹے ہیں آپ نے مجھے بلا لیا ہوتا تو یہ کہتے کہ میں شاگرد بن کے آیا ہوں، آپ کا یہ حق تھا کہ میں آپ کا ادب کروں اور اپنے کا م کے لیے آپ کو تنگ نہ کروں۔
.
امام ابوحںیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں لکھا جاتا ھے کہ آپ زندگی بھر اپنے استاد حماد بن أبي سليمان کے گھر کی طرف پاؤں کر کے نہیں سوئے ،،
کہا جاتا ھے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے درسگاہ کے سامنے سے ایک بھنگی گزرا کرتا تھا، جب بھی وہ بھنگی امام صاحب کے گھر کے پاس سےگزرتا تو امام صاحب اس کے احترام میں کھڑے ھو جاتے اور جب گزر جاتا تو بیٹھا کرتے تھے ، آپ کے کسی شاگرد نے ایک دن اس کا سبب پوچھا تو امام صاحب نے اسے بتایا کہ یہ بھنگی ایک مسئلے (کتے کی بلوغت سے متعلق) میں میرا استاد ھے
.
حضرت علامہ اقبالؒ اپنے دوستوں میں بیٹھے تھے کہ ان کے استاد مولوی میر حسن صاحب کا ادھر سے گزر ہوا۔ علامہ اقبالؒ ایک دم اٹھے اور ان کے ساتھ چل دیئے اور ان کو گھر تک چھوڑ کر آئے۔ دوستوں نے دیکھا کہ آپؒ کے ایک پاؤں میں جوتا ہے جبکہ دوسرے پاوں میں جوتا نہیں ہے۔ دوستوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے دوسراجوتا کیوں نہیں پہنا، انہوں نے جواب دیا، جب مجھے اپنے استادِ محترم نظر آئے تو جلدی میں میں جوتا پہننا بھول گیا۔
.
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ : حصول علم کی راہ میں استاد کی تلخ مزاجی پر صبر کا دامن پکڑو اس لیئے کہ استاد سے کشیدگی اختیار کرنے میں علم کی تباہی و بربادی ہے۔ اور حصول علم کی خاطر جو شخص چند ساعت کی کرواہٹ نہیں چکھ سکے گا تو پوری زندگی جہالت اور نادانی کی ذلت آمیز اور رسوا کن گھونٹ نوش کرے گا۔
.
علماء کرام ہو یا معلمین سے بلا وجہ بحث ومباحثہ کرنا، جدال کرنا، انسان کی آخرت بگاڑ دیتا ہے، چنانچہ عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
*من استخف بالعلماء ذبت آخرت *
(سير أعلام النبلاء: 4/ 408).
ترجمہ : جو علماء یا معلمین کا مذاق اڑاتے ہیں، ان کی توہین کرتے ہیں ان کی آخرت برباد ہو جاتی ہے.
خلاصہ کلام یہ ہے کہ معلم پوری قوم کا معمار ہوتا ہے نسلیں در نسلیں ان ہی کی زیرنگرانی پروان چڑھتی ہیں۔ سماج اور معاشرہ کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے معلم اور اساتذہ کیسے رہے ہونگے۔ ملک کا مستقبل انہیں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔۔۔ہر فرد کی کامیابی کے پیچھے ایک اچھے استاد کی محنت اور تربیت کار فرما ہوتی ہے۔ انسان اپنی زندگی میں ترقی کی منزلیں بغیر کسی استاد کے طئے نہیں کر سکتا۔۔

طالب علموں کو چاہیے کہ اپنے اساتذہ ومعلمین کی تعظیم و تکریم میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرنا، اپنے علم ومعرفت پر کبھی نہ اترانا، اپنی معلومات کو کبر وغرور کی غلاظت سے پاک رکھنا، کلاس میں جب اساتذہ تدریسی فرائض انجام دیں تو ہمہ تن گوش اور دنیا وما فیہا سے غافل ہوکر انہیں کی باتوں کو توجہ سے سننا، کیوں کہ علم تو تواضع، خاکساری اور استاد کی باتیں دھیان سے سن کر حاصل کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button