
مدرے منیر احمد ، وانم باڑی
فیروز ایک غریب گھرانے کا لڑکا تھا۔ذہین اور محنتی تھا۔ پڑھ لکھ کر ایک سرکاری نوکری کرنے لگا تھا۔ اب اس کی ماں کو ایک خوبصورت بہو کی تلاش تھی۔حسن اتفاق سے ایک دور کی رشتہ دار ملنے کو آئی۔بر سبیل گفتگو اسے یہ بات معلوم ہوئی کہ انہیں ایک خوبصورت متوسط طبقہ کی لڑکی کی تلاش ہے۔تو اس نے ان کو بتلایا کہ اس کے پڑوس میںایسے ہی پڑھی لکھی لڑکی ہے جو آپ کے معیار پر پوری اُترتی ہے۔دو چار عورتیں لڑکی کو دیکھنے کے لئے گئے۔لڑکی پہلی ہی نظر میں پسندآگئی۔بات کو آگے بڑھایا گیا۔لڑکی گھر والے دولہا کے اور اس کے گھر والوں کی اچھی طرح چھان بین کرکے رشتہ طے کردئے۔ دلہن گھر کے سامنے ایک بنگلہ برائے فروخت تھا،ایک فارن ریٹرن فیملی نے اس کو خرید لیا۔بنگلہ خریدنے کی خوشی میں ایک چھوٹی سی پارٹی رکھی گئی۔ قریب کے رشتہ دار اور پڑوسیوں کومدعو کیا گیا۔
دعوت میں جب گھر کی مالکن نے اس لڑکی کو دیکھا تو ا ن کے ذہن میں بھی ایک ایسی ہی بہو کی تلاش تھی۔تو وہ ایک اور پڑوسی کے ذریعہ اپنے بیٹا کا رشتے کا پیغام بھیجا۔دلہن کے ماں پڑوسی سے کہنے لگی لڑکی کا رشتہ تو طے ہوچکا ہے۔پڑوسن اور دوسروں کے بہکاوے میں آکرغریب گھرانے سے رشتہ توڑ کر مالدار گھرانے سے رشتہ طے کرکے بیاہ کردی۔غریب لڑکی کی ماں کی زبان سے آہ نکلی۔(مذہب اسلام میں اس بات سے روکا گیا ہے۔کے جب کسی مسلمان بھائی کا رشتہ کا پیغام کسی کے گھر جاتا ہے تو جب تک جواب نہیں آتا آپ وہاں پر کوئی دوسرا رشتہ کی بات نہیں چلا سکتے)۔
چھ ماہ تک سب ٹھیک تھا۔ساتویں ماہ میں مالدار لڑکے کو ذیابیطس بیماری لگ گئی۔شکر خون میں چار سو سے زائد ہونے لگا۔لڑکے کے جسم میں پھوڑے نکلنے لگے زخم سکھانے کے لئے مرہم پٹی کرنی پڑتی ،پہلے تو نرس آکر کرتی تھی جب یہ روز روز کا معمول ہوگیا تو اس کی بیوی کو ہی مرہم پٹی کرنی پڑتی۔وہ لڑکی کو بیوی سے زیادہ نرس کے فرائض انجام دینے میں بقیہ زندگی گزارنی پڑی۔



