سیاسی و مذہبی مضامین

اچھا ہوا فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

اچھا ہوا فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
از قلم : سید ذاکر علی

گزشتہ ماہ اورنگ آباد شہر میں ایک ریٹائرڈ ایجوکیشن آفیسر پی بی چوہان کو پولیس نے اس لئے گرفتار کیا کہ اس نے ایک ٹیچر کو بوگس ڈاکومنٹس کی بنیاد پر ٹیچر کی ملازمت منظور کی . عدالت نے اسے ٢٠ دسمبر ٢٠ ٢٠ تک پولیس کسٹڈی کا حکم صادر کیا . ویسے یہ کوئی نئی بات تو ہے نہیں . بلکہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ایجوکیشن مافیاگری کا ایک ادنیٰ سا نمونہ ہے.

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اسکول و کالج کا دھندہ ہے ہی کچھ ایسا کہ اس میں پانچوں انگلیاں گھی میں ہوتی ہیں اور دونوں ہاتھوں سے بڑی عزت کے ساتھ دولت سمیٹنے کا جو موقع ہے، وہ شراب، گانجا، لاٹری و جوا، قحبہ گری یا سود خوری جیسے کاروبار میں بھی نہیں ہے. مزید یہ کہ کالے کو سفید کرنے کا اس سے بہتر ذریعہ کوئی اور ہے ہی نہیں. اس ہائی ٹیک کالا بازاری کو سمجھنے کی غرض سے ہم اس واقعے پر نظر ڈالتے ہیں، جس میں ریاست بھر کے اردو گرانٹیڈ اسکولوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور آج تک انصاف خود انصاف کی بھیک مانگتا در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے.

3 تا 5 اکتوبر 2011 کے دوران حکومت کے محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکولوں کی تحقیقات کرنے کی مہم چلائی گئی تھی، جس کا نام بوگس حاضری رجسٹر جانچ مہم تھا . اس مہم کے دوران جملہ 1404 ایسے اسکول بے نقاب ہوئے، جنھوں نے اپنے اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلباء کی تعداد کو دوگنی دکھائی . مثلاً اسکول میں اگر صرف چار سو طلباء زیرِ تعلیم ہوں ، تو اسی تعداد کو آٹھ سو دکھایا گیا . اس کے لئے جعلی یا بوگس حاضری رجسٹر تیار کئے گئے اور حکومت کو بوگس ریکارڈ پیش کیا.

اس طرح سے طلباء کی بوگس تعداد بڑھا چڑھا کر دکھاتے ہوئے اضافی کلاسس کی منظوری حاصل کی گئی . یعنی کہ جہاں چار سو طلباء کے لئے دس کلاسس ہوں ، وہاں آٹھ سو طلباء دکھاکر بیس کلاسس کی منظوری حاصل کی گئی. ساتھ ہی ساتھ دس کلاسس کے لئے درکار دس ٹیچروں کی جگہ پر بیس کلاسس کے لئے بیس ٹیچروں کی جائدادوں کی منظوری حاصل کی گئی . اس طرح اب اسکول کے چیئرمین کی جیب میں ٹیچروں کی پوری بیس جائدادیں ہو گئیں. اب ٹیچروں یہ جائدادیں فی کس دس تا پندرہ لاکھ روپیوں میں فروخت کرنے کے لئے اسکول کے چیئرمین کو کھلا میدان مل گیا . ان حقیقی چار سو طلباء کی جگہ پر آٹھ سو طلباء کے نام پر حکومت سے ملنے والی کھچڑی ، یونی فارم ، درسی کتابیں ، درسی سامان ، ذاتی مشق کی ابیاض ، طلباء کا حاضری وظیفہ ، اسکالرشپ وغیرہ کی کروڑوں کی رقم بھی اسکول چیئرمین کی جاگیر بن گئی۔

اس طرح کی کالا بازاری اور فراڈ کرنے والے اسکولوں کے چیئرمین اور صدر مدرسین کے خلاف فوجداری کارروائی کئے جانے کا اعلان بذات خود ضلع پریشد کے چیف ایکذی کیوٹیو افسران کی جانب سے کیا گیا تھا . اس کروڑوں کے فراڈ اور لوٹ مار و کالا بازاری کے ضمن میں اسکول کے چیئرمین اور صدر مدرسین سمیت متعلقین کے خلاف فوجداری کیس کئے جانے کے بھی احکامات ڈائریکٹر آف ایجوکیشن سنیل چوہان نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے پر جاری کئے تھے . لیکن جب اس کارروائی کی نوبت آئی تو کاروائی کرنے والے محکمے کے یعنی کہ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے افسران کو بھی اپنی داڑھی میں تنکا نظر آیا اور آتا بھی کیسے نہیں؟ ان ہی کی مہربانیوں سے تو اس ہائی ٹیک لوٹ مار کے کارنامے کو انجام دیا جاتا ہے.

اسکول کے چیئرمین یا مالکان نے انھیں وارننگ دی کہ ہم تو ڈوبینگے صنم ، تمھیں بھی لے ڈوبینگے .

چنانچہ ٣ تا ٥ اکتوبر ٢٠١١ کے دوران جمع کئے گئے وہ تمام ریکارڈز غائب کر دئے گئے جو اسکول کے چیئرمین اور صدر مدرسین کی اس مجرمانہ لوٹ مار کا کچا چٹھا تھا اور انھیں ہتھکڑیاں پہنانے کے لئے پختہ ثبوت کی حیثیت رکھتے تھے. اب چونکہ ریکارڈ ہی غائب کر دیے گئے تو نہ رہا بانس اور نہ بجی بانسری . لہٰذا آج پورے نو سال گذر چکے ہیں . لیکن ایجوکیشن مافیاوں کے خلاف کارروائی تو دور ، بلکہ اس کالا بازاری میں مزید دس گنہ اضافہ ہوا ہے.

واضح رہے کہ حال ہی میں ١١ اگست ٢٠٢٠ کے روز محکمہُ تعلیم نے تمام اسکولوں کو وارننگ دی ہے کہ وہ اپنے اسکولوں کی بندو ناماؤلی فوراً پیش کریں . اس سے معلوم ہوگا کہ اسکولوں میں ٹیچروں کی کتنی جائیدادیں منظور کی گئیں ہیں اور کتنے ٹیچروں کی بھرتی کی گئی ہے اور کتنی جائدادیں خالی ہیں . اگر اسکول والے یہ رپورٹ پیش کر دیں تو اس کے ذریعے یہ بات بے نقاب ہو سکتی ہے کہ اسکولوں کے چیئرمین یا مالکان نے محکمہُ تعلیم کو اپنی کالاباری کی کالی دولت میں برابر کا حصہ دیتے ہوئے کتنے بے روزگار ٹیچروں کو ملازمت کا جھانسہ دیکر اور انھیں بے وقوف بناکر ان سے دس دس تا بیس بیس لاکھ کی رقم غٹرلی ہے اور ان میں سے کتنے ٹیچروں کو ملازمت دی .

اس پر مختصراً روشنی ڈالتے ہوئے آپ کو بتاتا چلوں کہ اسکول کے دھندے میں چیئرمین کس طرح کالا بازاری کرتا ہے اور کیسے کروڑوں کی کالی دولت کماتا ہے . کسی اسکول میں سمجھ لیجئے کہ چار سو طلباء زیرِ تعلیم ہوں تو ان کے لئے حکومت سے جملہ دس ٹیچروں کی بھرتی کئے جانے کی منظوری ملتی ہے . لیکن چیئرمین ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کو چار سو طلباء کے بجائے آٹھ سو طلباء دکھاتا ہے . اس کے لئے وہ طلباء کا بوگس حاضری رجسٹر تیار کرتا ہے اور چار سو کے بجائے آٹھ سو طلباء کا ریکارڈ پیش کرتا ہے .

اس ریکارڈ کی بنیاد پر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ دس ٹیچروں کے بجائے بیس ٹیچروں کی تقرری کی منظوری دیتا ہے. اب چیئرمین کے پاس جملہ بیس عدد ٹیچروں کی خالی جائیدادیں بھرنے کا گویا لایسین ہوتا ہے اور اس کی جیب میں پورے بیس ٹیچروں کی جائیدادیں ہوتی ہیں . اس کے بعد چیئرمین مارکیٹ میں بے روزگار ٹیچروں کو گھیرتا ہے . معاملہ بس اتنے پر ختم نہیں ہوتا ، وہ یہ بیس جائیدادیں صرف بیس ٹیچروں کو نہیں فروخت کرتا بلکہ ایک ہی جائیداد کے لئے تین تین بے روزگار ٹیچروں کو ملازمت کے لالچ کے جال میں پھانس کر ان سے فی کس دس تا بیس لاکھ کی رقم لیتا ہے .

اس طرح سے بیس جائیدادیں جملہ ساٹھ بے روزگار ٹیچروں کو فی نفر دس تا بیس لاکھ میں فروخت کرتا ہے اور کم از کم 6 تا 12 کروڑ کی رقم لوٹ لیتا ہے. ان بے روزگار ٹیچروں میں سے جن میں دم خم ہو ، وہ تو کسی نہ کسی طرح اپنی ملازمت چھین کر حاصل کر لیتے ہیں یا تو بمشکل اپنی رقم واپس لینے میں کامیاب ہوتے ہیں . یا پھر چیئرمین ان منظور شدہ ٹیچروں کی جائیدادوں پر اپنی ہی سالیاں ، ساڑو ، بیوی کے چچازاد ، پھوپھی زاد رشتیدار ٹیچروں کا تقرر کرتا ہے اور باقی ماندہ چالیس بے روزگار ٹیچروں کو لٹکا دیتا ہے .

اب یہ لٹے لٹائے اور اپنے ہی ہاتھوں برباد ہوئے ٹیچر حضرات ملازمت کی جھوٹی امید پر چیئرمین اور شاید اسی کی بیوی یا سالی صدر مدرس یا صدر معلمہ کی جوتیاں صاف کرنے میں زندگی گزار دیتے ہیں . حتیٰ کہ بچاروں کے ریٹائرمنٹ کا وقت آتا ہے . لیکن وہ پوری طرح سے برباد ہوجاتے ہیں . کیونکہ کہ دی ہوئی دس بیس لاکھ کی رقم کا کوئی ثبوت تو ہوتا نہیں کہ پولیس میں شکایت درج کر سکے . اور ویسے بھی یہ رقم رشوت کے طور پر دی ہوئی ہوتی ہے.

خیر یہ 6 تا 12 کروڑ روپے کی رقم تو صرف ٹیچروں کی تقرری کی کالا بازاری کے ذریعے چیئرمین کو ملتی ہے . اس کے علاوہ جو چار سو بوگس طلباء دکھائے گئے ہیں ، ان کی کھچڑی ، اسکالرشپ ، یونی فارم ، کتابیں اور کاپیاں ، طلباء کا حاضری وظیفہ و دیگر تعلیمی اشیاء کی بھی تقریباً اتنی ہی رقم چیئرمین کے پیٹ میں اتر جاتی ہے . علاوہ ازیں ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کارروائی کے صرف کاغذی گھوڑے دوڑائیں جاتے ہیں.لیکن کوئی عملی کارروائی ہوتی ہوئی اب تک تو نظر نہیں آئی

متعلقہ خبریں

Back to top button