سیاسی و مذہبی مضامین

با سمہ تعالیٰ – : آخر اس گناہ کے ذمہ دار کون ہیں

خوشنودی کے لئے کوئی ایسی اصلاحی تحریک کی بنیاد ڈالیں جس سے مسلم عوام میں دینی جزبہ پیدا ہو
 

عامل جوہر الحسینی
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ آج پورے شوشل میڈ یا پر "لو جہاد” سے موسوم، خبریں گردش کر رہی ہیں ہر کس و ناکس کی زباں پر یہی لفظ مستعمل ہے، گودی میڈیا کے اینکر ز بھی اسی لفظ مجہول کوفروغ دیتے، اپنی سابقہ روایتوں کا پاس رکھتے ہوئے ، زہر اگلتے دکھائی دے رہے ہیں،،، نیز-سوشل ذرائع کے مطابق شاید اس پر قانون سازی بھی کی جا چکی ہے! اب ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ لفظ "لو جہاد” ہے کیا؟ دراصل – لو جہاد فرقہ پسند جماعتوں کی لغت میں، ایک مسلم لڑکےکا کسی غیر مسلم لڑکی سے، یا کسی غیر مسلم لڑکے کا مسلم لڑکی سے باہمی رضا مندی کے ساتھ اپنے اپنےمذہب کے مطابق شادی کرلینا ہے!! لیکن صاحب دانشمند و ذی وقار کی زباں میں یہ کوئی معنی دار لفظ نہیں ہے!!تو جو حضرات اسے معنی دار لفظ تصور کرتے ہیں وہ اس پر قانون بنائے جانے کی حمایت میں ہیں،باقی مد مقابل والے مخالفت میں – بہر حال ہمیں اس سے بحث نہیں کہ کون اسے مانتا ہے اور کون نہیں!اسے اپنی جگہ پر رہنے دیں، بس اس کی جانکاری اور اس قسم کے پروپیگنڈے کا علم میں ہونا مقصود تھا لیکن افسوس تو یہ ہے کہآج اس مہلک بیماری کا شکار تو اکثریت کے پیمانے پر ہماری مسلم بہنیں ہوتی دکھائ دے رہی ہیں، ائے دن یہ خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں کہ فلاں بنت حوا اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی بیٹی نے فلاں غیر مسلم ومشرک لڑکے سے شادی کرلی، اور بآسانی ارتداد کا شکار بھی ہوجاتی ہیں!!! خدا کی قسم: اگر یہ تحریر خون کے آنسوؤں سے لکھی جائے تو بھی اس درد و کرب کو بیان نہیں کیا جاسکتا کہ ایک مسلم سماج کی بیٹی کسی مشرک کے آغوش میں جا بیٹھے….کیا ہوگیا ہم امت مسلمہ کو کہاں چلی گئی ہماری غیرت، بتاؤ مسلمانوں کیا اب بھی ہم خواب غفلت کی زندگی گزاریں گے؟؟کیا اب بھی ہم اپنی آنکھیں بند کر کے نت نئے فتنوں سے ان سنی و ان دیکھی کردیں گے؟ کیا کبھی ہم نے اس وقت کے بارے میں سوچا ہے کہ جب ہمارے آقاصلعم ہمارے سامنے ہونگے! اور اسی دوران ہم سے سوال کردیں کہ بتاؤ تم نے میرے جانے کے بعد اس دین کی ناموس کے لیے کیا کچھ کیا تھا؟ تو کیا جواب دیں گے ہم، یہی کہ یارسول اللہ ہماری مسلم بہنوں کے سر سے دوپٹے اچھالے جا رہے تھے، ان کی آبروریزی کی جارہی تھی ان کو بہلا پھسلا کر مرتد کیا جارہا تھا اور ہم نرم بستروں پر آرام فرماں تھے، ہماری حمیت کو سانپ سونگھ گیا تھا، آپ اور آپ کے یاروں کی اس دین کی خاطر بے پناہ قربانیاں ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئی تھیں، خلاصہ یہ کہ ہم امن پسندی کے نام پر بزدلی کے شکار ہو گئے تھے”نعوذ بالله من ذال ” مُسلمانوں!! اس سے قبل کہ ہمیں یہ دن دیکھنا پڑے، ہمارے مزہب پر آنچ آئے ہمیں بیدار ہوجانا چاہیے اس قسم کےہر پروپیگنڈے کو ناکام بنانے کے لیے میدان عمل میں آنا چاہیے! اور غیروں کے ہر اس عمل کے خلاف ہمیں اپنے اقدامات کو آگے بڑھانا چاہئے جو اسلام اور اسلام کے ماننے والوں کے لیے مضر ثابت ہو، مسلم معاشرے کی اصلاح ائمہ مساجد اور مدارس کے علماء پر مبنی ہے، آپ اول العزمی کے ساتھ خالص اللہ کی رضاء و خوشنودی کے لئے کوئی ایسی اصلاحی تحریک کی بنیاد ڈالیں جس سے مسلم عوام میں دینی جزبہ پیدا ہو، ان کو آپ بتائیں کہ کیا کیا چیزیں ہماری خواتین کے حق میں زہر سے زیادہ نقصان دہ ہے، آپ اپنے مکتبی تعلیمی معیار کو مضبوط کریں ، اور لوگوں کو اس بات کی طرف متوجہ کریں کہ اگر آپ اپنی بہن بیٹیوں کی عزت، اور غیروں کی نذر ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو انہیں مکتبی تعلیم سے آراستہ کیجئے، انہیں دینی تعلیم سے آگاہی دیجئے، موبائل جیسے زہر سے اسے دور رکھنے کی تاکید کیجئے، مخلوط تعلیم حاصل کرنے کے نقصانات بتائیے، نیز-اس قسم کی دیگر تمام تر اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں سے بچتے رہنے کی بہتر تدابیر اختیا ر کیجئے!!! تبھی جاکر دین وملت کی پاسداری کی امید کی جاسکتی ہے، اور یہی عمل اللہ اور اس کے رسول کی رضاء کا – نیز کل میدان محشر میں رسول اللہ صلعم کے ہاتھوں سے جام کوثر پینے کا اور ان کے سامنے ذلیل و رسوا ہونے سے بچنے کا سبب بنے گا، انشاء اللہ عزوجل وما توفيق إلا بالله….

متعلقہ خبریں

Back to top button