بیٹی پڑھاؤ دیس بچاؤ
عبدالکریم عبد الحمید حمیدی اوڑاجھار کلاں تلسی پور بلرامپور
آئے دن اخباروں کی زینت بن کر یہ خبر پیش آمد ہوتی ہے کہ ایک مسلم لڑکی کسی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ فرار
اگر سبب کے متلاشی ہوں تو بہت سارے اسباب ملے گے
مثلاً ان پر بندش نہ ہونا اور ان کو آزاد چھوڑنا.
اور ایک اہم سبب مخلوط تعلیم (مرد و زن کو ایک ساتھ ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ پر تعلیم دینا) بھی ہے.
جہاں پر اس طرح سے تعلیم ہوتی ہو تو وہاں زنا و بدکاری، اور فرار ہونے کے واقعات جنم نہ لیں ایسا بہت مشکل ہے. یہ تو ایسے ہی ہے کہ بھیڑیا اور بکری ایک ہی مرغزار میں چریں اور بھیڑیا بکری کا شکار نہ کرے.
یہ تو ابتدائی دور میں ہی پیش ہونے لگتے ہیں. لیکن دھیرے دھیرے بڑھتے عمر کے ساتھ ساتھ جب لڑکا لڑکی شادی کرنے کے دہلیز پر قدم رکھتے ہیں اور ایک مسلم لڑکی مذہب وملت کا لحاظ کیے بغیر غیر مسلم لڑکے کے ساتھ اپنے پیار، دوستی کو رشتے کا نام دینا چاہتی ہے.
اور اپنے اہل خانہ کو اس سے مطلع کرتی ہے تو اس کے ولی اس رشتے کو قبول نہیں کرتے کیونکہ لڑکا غیر مسلم ہے.
اور وہ اسکی شادی کسی مسلم لڑکے سے کرانا چاہتے ہیں جو ان پڑھ، جاہل یا پھر اس سے کم تعلیم یافتہ ہوتا ہے. جس سے لڑکی شادی سے انکار کر دیتی ہے. اور وجہ انکار محض یہی ہوتا ہے کہ مسلم لڑکا عدم تعلیم یافتہ ہے کیونکہ وہ جس غیر مسلم لڑکے سے بیاہ کرنے کی رغبت رکھتی ہے وہ پڑھا لکھا اور تعلیم میں اس کے پائے کا ہے.
اس کے بعد یا تو کورٹ میرج (court marriage) یا پھر فرار ہونے کے واقعات رونما ہوتے ہیں.
لہذا اگر ہم بیٹیوں کو بچانا چاہتے ہیں تو بیٹیوں کے ساتھ ساتھ اپنے بیٹوں کو بھی تعلیم سے آراستہ و مزین کرائیں. تاکہ ہماری بیٹیاں محض اس وجہ سے ایسے واقعات کا شکار نہ ہوں کہ ہمارے بیٹے/بچے تعلیم یافتہ نہیں ہیں. کیونکہ اب وہ دور نہیں رہا جب ایک پڑھی لکھی لڑکی کا ایک رکشہ ڈرائیور کے ساتھ رشتہ کر دیتے تھے اور وہ خوشی خوشی اس رشتے کو قبول بھی کر لیتی تھی.
اب تعلیم یافتہ زمانہ ہے اپنے بچوں کو تعلیم دیں. ورنہ یہ (فرار ہونے اور کورٹ میرج کے واقعات) ہمیشہ ہی اخباروں اور خبروں کی زینت بن کر سجے گے اور ہم کف افسوس ملتے رہیں گے.



