
جھانکئے گا مگر اپنے دامن میں
محمد مصطفی علی سروری
جسٹس الکاسارین پنجاب ہریانہ ہائیکورٹ کی جج ہیں۔ گذشتہ مہینے جنوری میں صادر کردہ اپنے ایک فیصلے میں انہوں نے واضح کیا کہ ’’ایک مسلمان مرد اپنی پہلی بیوی کو طلاق دیئے بغیر دوسری شادی کرسکتا ہے جبکہ مسلمان خاتون اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کیے بغیر دوسری شادی نہیں کرسکتی ہے۔
‘‘ اس خاتون جج نے مسلم پرسنل لاء اور مسلم میریج ایکٹ 1939ء کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایک مسلم خاتون اسی وقت دوسری شادی کرسکتی ہے جب وہ اپنے پہلے شوہر سے باضابطہ طور پر علیحدگی اختیار کرے۔‘‘
قارئین اسلامی شریعت کے اس قانون کی وضاحت پر غور کریں۔ یہ وضاحت کسی دینی مدرسہ کے مولانا اور مفتی نے نہیں دی بلکہ پنجاب ہریانہ کی ہائیکورٹ میں برسرخدمت خاتون جج الکا سارین نے دی ہے۔ دوسری اہم بات یہ بھی نوٹ کی جانی چاہیے کہ عدالت نے اسلامی شریعت کا یہ اہم سبق کسی غیر مسلم کو نہیں بلکہ ایک مسلم جوڑے کو دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 27؍ جنوری 2021ء کو صادر کیے گئے ایک فیصلے میں جسٹس الکا سارین نے یہ بات کہی ہے۔ دراصل پنجاب ہریانہ ہائیکورٹ میں ایک 18 سال کی مسلم لڑکی اور 23 سال کے مسلم لڑنے انہیں پولیس کا تحفظ فراہم کرنے کے لیے درخواست دائر کرتے ہوئے بتلایا کہ ان کی جان کو لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے خطرہ ہے۔ اس لیے عدالت، پولیس کے ذریعہ ان کو سیکوریٹی فراہم کرے۔
اس مسلم لڑکی نے دستو ہند کی دفعہ 226/227 کے تحت عدالت میں ایک فوجداری درخواست داخل کی اور کہا کہ وہ دونوں بالغ ہیں اور کافی عرصے سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے 19؍ جنوری 2021ء کو باضاطہ طور پر نکاح کرلیا ہے۔
قارئین مسلم لڑکی مسلمان لڑکے سے شادی کرتی ہے اس میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے لیکن مسلم لڑکی کی جانب سے عدالت میں داخل کردہ درخواست کا وہ پہلو بڑا المناک ہے۔
اپنی درخواست کے 15ویں پیراگراف میں لڑکی بتلاتی ہے کہ اس کی مرضی کے خلاف اس کے گھر والوں نے دوسری جگہ اس کی شادی کروادی۔ آگے مزید وہ کہتی ہے کہ اس نے اپنی پہلی شادی کے بعد سسرال والوں کے خلاف ایک مقدمہ بھی درج کروایا ہے۔
بعد میں لڑکی نے اپنی مرضی سے دوسری شادی کرلی۔ یہ شادی اس نوجوان کے ساتھ ہوئی جس کو لڑکی پسند کرتی تھی۔ اس لڑکے کی بھی اس کے گھر والوں نے ایک شادی کردی تھی۔ اب عدالت سے رجوع ہونے والے یہ دونوں درخواست گذاروں کی دوسری شادی تھی۔ اس درخواست کی سماعت کرنے کے بعد جسٹس الکا سارین نے مسلم لڑکی کی فوجداری درخواست کو خارج کردیا اور کہا کہ مسلم مرد پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرسکتا ہے۔
اس کے برخلاف مسلمان خاتون اپنے پہلے شوہر سے طلاق حاصل کیے بغیر دوسری شادی نہیں کرسکتی ہے۔ اس لیے مسلمان لڑکی دوسری شادی غیر قانونی ہے اور عدالت اس غیر قانونی شادی کے لیے کسی کو پولیس تحفظ نہیں فراہم کرسکتی ہے۔
اخبار دی انڈین ایکسپریس
نے 9؍ فروری 2021ء کو اس عدالتی فیصلے کے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی جس کی سرخی "Muslim# man can marry more than once with out divorcing earlier wife, same does not apply to Muslim lady”.
قارئین مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کے خلاف تو ہر کوئی بات کرتا ہے لیکن وقت آگیا ہے کہ مسلمان اس بات کا نوٹ لیں کہ اس طرح کا پرسنل لاء کے ساتھ مذاق بھی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ہم سبھی کی ذمہ داری ہے ہم غور کریں اکثر واقعات میں جب عدالتوں نے مسلم پرسنل لاء کے خلاف مقدمات میں فیصلے صادر کیے ہیں تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے والوں میں مسلمان ہی شامل ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے مسلمان اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ ان اقدامات میں خود مسلمانوں کو مسلم پرسنل لاء سے واقف کروانا ضروری ہے۔مسلم نوجوانوں میں یا نئی نسل میں اتنی بھی معلومات نہیں ہے کہ مسلم خاتون اپنے شوہر سے طلاق یا علیحدگی حاصل کیے بغیر دوسری شادی نہیں کرسکتی ہے؟ اس صورت حال کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ مسلم والدین اور ان کی تربیت میں یقینا کہیں نہ کہیں کمی ہے۔ اور کوتاہی ہو رہی ہے۔ جب ہی تو ایسی صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔
آئیے ذرا اس درخواست کا ہی تجزیہ کرلیتے ہیں جو پنجاب ہریانہ ہائیکورٹ میں داخل کی گئی۔ جب ایک مسلم لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں تو شرعی طور پر اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
اب یہ والدین اور سرپرستوں کا مسئلہ اور غلطی ہے کہ وہ اول تو لڑکی کو اس کی پسند کی شادی کرنے نہیں دیتے۔ دوم لڑکی کو اس بات کے لیے قائل نہیں کرواسکے، سمجھا نہیں سکے، اس کے لیے اس کی پسند سے بہتر رشتہ وہی ہے جہاں پر گھر والے اس کی شادی کر رہے ہیں۔
جیسا کہ لڑکی خود اعتراف کر رہی ہے کہ میری پہلی شادی گھر والوں کی زبردستی سے کروائی گئی اور قارئین زبردستی کی اس شادی کا کیا نتیجہ نکلا۔ لڑکی سسرال جاکر سسرال والوں کے خلاف ہی پولیس میں شکایت درج کرواکر واپس اپنے عاشق کے پاس آتی ہے اور پھر ایک غیر قانونی شادی کے بندھن میں شامل ہونے کا دعویٰ کر کے عدالت میں مسلم پرسنل لاء کا مذاق بنا ڈالتی ہے۔
ایک ریٹائرڈ ٹیچر مسلم سماج کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ہمارے نوجوان طبقے کی گمراہی، تعلیم سے عدم دلچسپی، خرافات کا عام ہونا اورغیر ذمہ دارانہ رویہ کا عام ہونا نہایت سنگین مسائل ہیں۔ لیکن اس بزرگ خاتون کے مطابق آج کے دور کا سب سے بڑا مسئلہ مسلمان لڑکیوں کی گمراہی ہے۔
آگے وہ وضاحت کرتی ہیں کہ مسلم سماج میں شادیوں میں تاخیر، جہیز کے مسائل، لڑکیوں کو صورت، شکل کی بنیاد پر ٹھکرانا، ایسے حساس موضوعات ہیں جس سے بہت ساری لڑکیوں کو پریشانیاں جھیلنی پڑ رہی ہیں۔ لیکن اس بنیاد پر ہم اپنے گھروں میں اپنی لڑکیوں کو اتنا زیادہ رعایت دے رہے ہیں کہ وہ دین سے دور ہو ہی رہی ہیں بلکہ فضول خرچی، فیشن اور بے حیائی کے کاموں کو ہی زندگی کا اصل سمجھنے لگی ہیں۔
کیا لڑکیوں کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا اور ملازمت اختیار کرنا مسئلہ ہے۔ اس حوالے سے بزرگ خاتون ٹیچر لکھتی ہیں ’’اچھی تعلیم حاصل کر کے اپنے خاندان کے لیے یا اپنے خود کے لیے ملازمت کرنا یا بزنس کرناکسی طرح سے کوئی عیب نہیں ہے بلکہ وقت کا تقاضہ بھی ہے۔ اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ محنت کی کمائی کو فضول خرچیوں میں گنوانا اور اپنے ذاتی مفاد اور کیریئر کو آگے بڑھانے کے لیے کردار میں پستی لانا عام سی بات بن گئی ہے۔
بعض اوقات تو برقعہ و حجاب میں رہتے ہوئے بھی مسلم لڑکیاں ایسے عادات و اطوار کو اپنا رہی ہیں جس کی مذہب اسلام میں بالکل بھی اجازت نہیں ہے اور ہماری تہذیب بھی ایسی چیزوں کو گوارہ نہیں کرتی ہے۔اس مسئلہ کا اصل حل لڑکیوں کو دین اسلام کی صحیح تعلیمات سے آراستہ کرنا ہے۔
خواتین اور لڑکیوں کی کونسی فضول خرچیاں ہیں اس کے متعلق ریٹائرڈ ٹیچر کہتی ہیں دعوتوں اور شادیوں میں شرکت کے لیے کیا جانے والا خرچ صرف اور صرف لوگوں کے دکھاوے کے لیے ہوتا ہے۔ پھر چاہے وہ تیاری کپڑوں کی ہو یا میک اپ کی۔ یہ وہ اخراجات ہیں جو صرف تصویر کشی یا ویڈیو کے لیے اور سوشیل میڈیا پر فوٹو، ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے لیے ہو رہی ہیں۔
ان کے مطابق یہ وہ امور ہیں جن کو ٹالا جاسکتا ہے اور اس فضول خرچی کو بچت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ دعوتوں میں کھانے کے نام پر اسراف بڑا سنگین مسئلہ ہے۔
قارئین اس سے اختلاف کیا جائے یا اتفاق مگر کچھ تو کرنا ہوگا۔ کیونکہ یہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ اس کو حل کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم و تربیت اسلامی ماحول میں ہو اس سے کسی مسلمانو ںکو اختلاف نہیں ہوسکتا ہے لیکن لڑکیوں کے بگاڑ پر توجہ مرکوز کر کے لڑکوں کی تربیت سے پہلو تہی نہیں کی جاسکتی ہے۔
لڑکوں کی تربیت میں کہاں پر کوتاہی ہو رہی ہے اس کا بغور تجزیہ کریں تو پتہ چلے گا کہ مسلمانوں کے ہاں بھی لڑکے کی پیدائش کو طرۂ امتیاز بنادیا گیا ہے۔ یقینا اولاد اللہ کی نعمت ہے اور نعمت لڑکے کی ہو تو یقینا اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہیے لیکن لڑکے اللہ نعمت ہیں تو لڑکیاں کیا ہیں؟
قارئین دراصل مسلمانوں کو اپنے بچوں کی تربیت اور تعلیم کے متعلق توازن برتنے کی ضرورت ہے۔ لڑکیوں کو جہاں بچپن سے ہی ذمہ داری ہے کہہ کر خاص توجہ دی جاتی ہے ویسی ہی توجہ لڑکوں پر بھی مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ لڑکے بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔
لڑکا ہے کچھ بھی نہیں ہوتا، سب چلتا ہے کی فکر کو ترک کرنے کی ضرورت ہے۔ لڑکے تعلیم سے محروم ہوں تو مانباپ کے کفیل نہیں بن سکتے اور پھر شادی کے بعد کے طفیلی بن کر رہیں گے۔ کوئی کہتا ہے ماں کا لڑکوں سے پیار اور کوئی کہتا ہے ماں باپ دونوں کا پیار لڑکے کی شخصیت اور تربیت کو خراب کردیتا ہے۔ غلطی چھوٹی ہو یا بڑی میرا لڑکا ہے کہہ کر نظر انداز کردینا ایک غیر ذمہ دار فرد کی پرورش کی راہ ہموار کرتا ہے۔
لڑکوں کو کیسے کم عمری میں ہی بگاڑ دیا جاتا ہے
اس کی مثال ہمارے گھروں کے دستر خوان سے لی جاسکتی ہے۔ باسی سالن، خراب کھانا لڑکی کھائے گی اور ہر لذیذ ڈش اور بہترین پکوان پر پہلے بچے کا حق۔ لڑکوں کو مرغ کی ران اور لڑکی کو گوشت کا وہ ٹکڑا جو کم گوشت اور ہڈیاں زیادہ رکھتا ہے۔ دنیا اس مرض کی نشاندہی کرتی ہے جس کا فوری علاج ضروری ہے۔ کتنی ہی مثالیں ہیں پھر چاہے بچوں کو دیئے جانے والے جیب خرچ کی بات ہو یا نئے کپڑوں کی خریداری کا معاملہ، موازنہ کرلیجئے۔
دین سے، تعلیم سے، تربیت سے دور رہ کر ہمارے بچے کیا سیکھ رہے ہیں۔
اچھا کھانا، اپنے جسم کو مضبوط بنانے جم جانا۔ یہ سونچ کہاں لے کر جارہی ہے۔ تھورا ٹھنڈے دماغ سے سونچئے؟ اگر اب بھی سمجھ میں نہ آئے تو اللہ رب العزت سے ہاتھ جوڑ کر دعا ہی کرلیں کہ ائے مالک ہمارے آنکھیں کھول دے اور جو حقیقت ہے اس پر پردہ اٹھادے۔
تعلیم کے میدان میں دسویں کے بورڈ امتحانات کو ہی پیمانہ بنالیجئے۔ انٹرمیڈیٹ ہو یا کسی پروفیشنل کورس یا یونیورسٹی کے امتحانات کا ہی تجزیہ کرلیجئے۔ ہر طرف مسلم لڑکیاں ہی سبقت لے جارہی ہیں۔ لڑکے مسلم سماج میں کونسا تیر مار رہے ہیں۔ زیادہ دور مت جایئے۔ اپنے کسی قریبی پولیس اسٹیشن کے جرائم پیشہ افراد کا ریکارڈ دیکھ لیں۔ برا نا مانئے گا ذرا سا ٹھنڈے دماغ سے سونچ لیں۔ غور کریں کہ اپنے بچوں کی تربیت میں ہم سے کہاں چوک ہو رہی ہے۔
اگر اپنی اس غلطی کا ہم حساب نہیں لے گیں تو وقت ہم سے حساب لے گا اور دانا لوگ کہتے ہیں وقت جب حساب لیتا ہے تو بڑی بے دردی کے ساتھ لیتا ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو دین اسلام کی صحیح تعلیمات کو سمجھنے اور اس کی روشنی میں بطور والدین اور سرپرست اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے والا بنائے۔ آمین۔ یارب العالمین۔



