بسم اللہ الرحمن الرحیم
حق گوئی۔۔۔۔۔۔۔
سعود ممتاز ندوی(متعلم شعبۂ افتاء )
اس دنیا میں حق گو مسلمان یا حق گو انسان اولین دور سے بلکہ ہر دور ہی میں ظلم کا سامنا کرتے آرہے ہیں۔ آج اکیسویں صدی میں بھی مسلمان کئی گوشوں میں ظلم کا شکار ہو رہے ہیں، چاہے وہ برما میں ہو جہاں انکے حقوق ختم کر کے انکو سر عام قتل کیا جا رہا ہو یا وہ چائنا میں ظلم و استبداد کا سامنا کر رہے ہوں میری مراد ان ایغوری مسلمانوں سے ہے
جن پر چین کی کمیونسٹ پارٹی نے پہلے ہی سے انکے شہر وں پر قبضہ کر لیا پھر انکو بڑی بڑی جیلوں میں دھکیل دیا۔ اس پر بھی بس نہ کر کے والدین کو ان کے بچوں سے الگ کر دیا شوہر کو بیوی سے، ماں کو بیٹے، باپ کو بیٹی سے الگ کر دیا،
نہ سونے کیلئے بستر ،نہ بیمار پڑنے پر دوا کا انتظام، نہ وکیل کرنے کی کوئی اجازت۔ غرضیکہ انکے تمام انسانی حقوق کو سلب کر لیا گیا ہے۔ ان حالات کی جھلک کبھی کبھی ہندوستان جیسے ممالک میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے خاص کر جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اگرچہ جہاں اکثریت میں ہیں وہاں بھی حق گو محفوظ نہیں لیکن جہاں اقلیت میں وہاں انکو اسلام کا طعنہ دے کر ہر باشندے کو ان سے متنفر کرنے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے ایسے میں بہت سے افراد بد دلی اور مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں اور خدا سے شکایت بھی کر بیٹھتے ہیں:
رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
لیکن مسلمانوں کو ایسے حالات میں بالکل مایوس نہیںہونا ہے بلکہ انہیں اس بات کا یقین پیدا کرنا ہے کہ انشاء اللہ بہت جلد عنقریب ہی عزت و عظمت انکے ہاتھوں میں آنے والی ہے اگر وہ پورے پورے دین پر چلنے والے ہوں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’تم میں جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اللہ کا ان سے وعدہ ہے کہ انکو زمین میںاپنی نیابت عطا فرمائے گا،
جیسے کہ ان سے پہلے لوگوں کو نیابت عطا فرمائی تھی، اور جس دین کو انکے لئے پسند کیا ہے اسکو انکے لئے قوت دے گا اور ان کے اس خوف کے بعد اسکو امن سے بدل دے گا بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں‘‘۔(سورہ نور :۵۵)۔
پھرظالمین کے رویوں سے ذرا بھی خائف یا بد دل نہ ہوں ان حالات سے بالکل نہ گھبرائیں اللہ تعالیٰ خطاب فرما تا ہے : ’’ یہ ظالم لوگ جو کچھ کر رہے ہیں اس سے اللہ کو غافل اور بے خبر نہ سمجھنا چاہئے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے انکو ڈھیل دی گئی ہے مہلت دی گئی ہے اس مقررہ دن تک جس دن انکی آنکھیں پھٹی رہ جائیں گی اور سر اوپر اٹھا کر ٹکٹکی لگا کر دوڑ رہے ہونگے،
شدت ہول سے انکے دل بد حواس ہونگے‘‘۔ (سورئہ ابراھیم : ۴۲) ایک اور جگہ خطاب باری ہے : ’’ہم اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے پہلے وہ وعدہ کر چکے ہیں کہ یقینا انکی ہی مدد کی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا۔ اے نبیﷺ ذرا کچھ مدت کیلئے انہیں انکے حال پر چھوڑ دیجئے اور آپؐ دیکھتے رہئے یہ خود بھی بہت جلد دیکھیں گے(عذاب کو)۔ کیا وہ ہمارے عذاب کی بہت جلدی مچا رہے ہیں تو جب وہ عذاب انکے صحن میں اتر جائے گا تو وہ دن انکے لئے بہت برا ہوگا‘‘۔ (سورئہ صافات : ۱۷۷)
لہٰذا اب ہمیں چاہئے کہ ہم ان حالات میں استقلال، ہمت اور حوصلہ کے ساتھ صبر کرتے ہوئے اسلام پر ڈٹے رہیں اور حق گوئی میں کبھی پیچھے نہ ہٹیں:
آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
اس کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث کا خوب مطالعہ کریں آیات میں تدبر کریں، علماء سے روابط مضبوط رکھیں اور خدا سے کامل مومن ہونے کی توفیق مانگتے رہیں۔



