
*حویلی*
عائشہ ناز
آج پھر وہ سخت پریشان تھی اور اسکی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ اسکے چار بیٹے تھے۔ آج پھر وہ لڑ پڑے تھے۔ رام ، رحمان، رونی اور رجت سنگھ اپنی ماں سے بیحد محبت کرتے تھے مگر دوستوں اور رشتےداروں کے بہکاوے میں آکر ایک دوسرے کی جان کے پیاسے ہوجاتے تھے۔ وہ اپنے بیٹوں کے ساتھ گاؤں میں خوبصورت اور شاندار حویلی میں رہتی تھی۔جس پر بہت سے لوگوں کی نظریں تھیں
اور اسی کی خاطر اسکے بیٹوں کو اکثر لڑایا جاتا۔ آج اسکے ذہن میں بس ایک ہی بات گھوم رھی تھی کیا ماضی خود کو دوہرا رہا ہیں۔ جس طرح آج سے کچھ سالوں پہلے غیروں نےاس کی حویلی پر قبضہ کیا تھا، کیا وہی دوبارہ ہوگا؟؟؟؟
کیا پھر اسکی حویلی کا ایک خوبصورت حصہ اسے کھونا پڑے گا؟؟؟
نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ وہ ختم ہوجائیگی اگر ایسا ہوا تو اسکا وجود ختم ہوجائیگا۔ اسکے چاروں بیٹوں کو سمجھنا ہوگا آپس میں مل کر رہنا ہوگا ورنہ انکے وجود کے خاطر انکی ماں کا وجود ختم ہوجائیگا۔
ماں بھارتی کے چہرے پر فکر کی تہیں اور زیادہ گہری ہو گئیں۔۔۔۔



