
تبصرہ سفر خیال کا! پر ایک نظر!
————————————————-
کتاب کا نام : سفر خیال کا!
مصنف : اختر صادق
صفحات : 285
قیمت : 170روپے
مبصر : سکندر علی شکن
————————————————-
اختر صادق کی زیر تبصرہ کتاب "سفر خیال کا !” زیر مطالعہ رہی جسے پڑھ کر مسرت ہوئی کہ ایک ہی کتاب میں بیک وقت کئی اقسام کے مضامین سے فیضیاب ہونے کا موقع ملا ۔
مزکورہ کتاب قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، نئی دہلی کے مالی تعاون سے شائع کی گئی ہے اس کتاب میں مختلف موضوعات پر لکھے گئے کل چوبیس مضامین شامل ہیں ۔ کتاب کو مصنف نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے حصہ اول میں نظموں ، غزلوں اور ماہیے پر مضامین ، حصہ دوم میں میں افسانے ، طنز و مزاح اور دیگر مضامین اور حصہ سوم میں انگریزی سے اردو تراجم شامل ہیں۔
کتاب کے بارے میں مزید جاننے سے پہلے کتاب کے مصنف کے بارے میں تھوڑا جان لیتےہیں ” سفر خیال کا!” کے مصنف اختر صادق سائنسی اور اردو ادب کے میدان میں 1982سے سرگرم ہیں ـ آپ کا تعلق ناندیڑ ، مہاراشٹر سے ہے ۔ موصوف نے ادبی مضامین کے علاوہ سائنسی موضوعات پر کئی مفید اور کارآمد مضامین قلمبند کیے ہیں ـ اگرچہ اُن کا قلم زبان و بیان کی لوچ سے بہرور ہے اور ایسی خصوصیت بھی رکھتا ہے کہ سنجیدہ ادب میں اپنی موجودگی کا احساس دلا سکے ـ
اختر صادق خلاقانہ ذہن کے مالک ہیں اور ایجاد و اختراع سے آپ کےذہن کو خصوصی نسبت ہے ۔آپ نے "معانقاتی نظم ” کی ایجاد کی اور بہت جلد معانقاتی نظموں کا مجموعہ منظر عام پر ہوگا۔ موصوف جو بھی لکھتے ہیں وہ پورے غور فکر سے مطالعہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں اور ان کے یہاں زبان ستھری اور دلکش انداز میں لفظوں کے معنوں کا جامہ زیب تن کیے نظر آتی ہے .جس کے سبب قاری اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا
جیسا کہ زیر تبصرہ کتاب "سفر خیال کا! ” میں شامل مضامین کے مطالعے سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔
کتاب کے پہلے مضمون "میرا جی کی نظم سمندرکا بلاوا اور اس کے رنگ "میں مصنف رقم دراز ہے کہ اس نظم میں چوبیس رنگ ہیں صرف یہی نہیں بلکہ موصوف نے چوبیس رنگوں کی با قاعدہ وضاحت بھی کی ہے ۔یہ مضمون پڑھنے لائق ہے. اختر صادق نے کتاب میں شامل دوسرے مضمون میں کئی معتبر نقادوں کی آراء کے حوالے سے میرا جی کی نظموں کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ۔
مشہور نثر نگار اور نقاد ڈاکٹر غضنفر اقبال کی کتاب "صفر بار دوش” پر مصنف نے بہت اچھے انداز میں تبصرہ پیش کیا ہے انکا کہنا ہے کہ صفر انسان کی حیرت انگیز ایجاد ہے ۔ جسے غضنفر اقبال نے اس کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے "صفر بار دوش”ترتیب دیکر تحقیق و تنقید کے میدان میں ایک نیے باب کا اضافہ کیا ہے ۔
کتاب میں شامل مضمون "نظم لا تقنطو کا تجزیاتی مطالعہ” میں اختر صاحب ڈاکٹر مقبول احمد مقبول کی مذکورہ نظم کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔۔۔ ” یہ نظم انتہائی نا مساعد اور مایوس کن حالات میں بھی زندہ رہنے اورمصائب و مسائل سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ عطا کرتی ہے” ۔
کتاب کے دوسرے حصہ میں اختر صادق نے ف۔ س اعجاز کا افسانہ ‘ ڈولفن ‘ کا خوبصورت انداز میں تجزیہ پیش کیا ہے
موصوف نے "الفاظ کا بازیگر ” میں پروفیسر یونس فہمی کی اردو شناسی اور اردو فہمی پر پر مغز مقالہ لکھا ہے ۔ جو اردو داں طبقہ کے لیے افادیت کا حامل ہے
کتاب میں شامل مزاحیہ مضمون "سیب نیچے کیوں گرا؟” میں اختر صادق صاحب قارئین کو لطف اندوز کراتے کراتے سبق آموز پیغام بھی دیتے نظر آتے ہیں۔
اس حصہ کا آخری مضمون "محترم حضرات سحر کے لیے سولہ منٹ باقی ہیں! ۔ مصنف نے ہذا مضمون میں مسجد کے موذن صاحب کی زندگی کا حال و احوال طنز کے حوالہ سے کیاہے ۔
کتاب کے تیسرے یعنی آخری حصہ "انگریزی سے اردو تراجم میں شامل پہلا مضمون” ڈیجیٹل کیمرہ” کی خصوصیت پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ دوسرے مضمون میں "بآواز بلند پڑھیں یا نہ پڑھیں ؟” میں مصنف بآواز بلند پڑھیں یا نہ پڑھیں؟ کے فوائد و نقصانات پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں ” شاعر ماحولیات : متن اچل پوری "، ” مصور شاعر رءوف صادق کی نثری نظمیں :ایک مطالعہ”، "عاجز ہنگن گھاٹی کی نظم نگاری کے لعل گوہر”، "نواب مرزا ‘کی نوابیت”، "اردو کا نقش زریں: مدھوکر دھرما پوری کر” وغیرہ شامل ہیں جو قابل قدر و سبق آموز تحقیقی، تنقیدی اور تجزیاتی نوعیت کے ہیں اس طرح بہ حیثیت مجموعی کہا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب مختلف موضوعات و مضامین کا مضموعہ ہے
کتاب گہری فکر کے ساتھ قراءت کی متقاضی ہے۔ میرا دعوا ہے کہ آپ جوں جوں کتاب پڑھتے جائینگے اختر صادق کے ان مضامین کا سحر طاری ہوتا جائیگا اور آپ سوچ میں پڑجائیں گے کہ موضوع بہتر ہے یا پیش کش کا انداز——- یہ مقام کسی بھی فنکار کے لئے طمانیت کا باعث ہوتا ہے۔ کتاب میں کچھ کمپیوٹر ٹائپنگ کے دوران تین چار جگہ الفاظ کی چوک ہوئی ہے ۔
مبارکباد کے مستحق ہیں اخر صادق صاحب جنھوں نے اس کام کے لیے دن رات تگ و دو کی اور قوی امید ہے کہ موصوف کی یہ کتاب ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی حاصل کرے گی ۔
_______________________________________
رابطہ نمبر : 9519902612



