لوگ کیا کہیں گے؟ یا لوگ کیا سمجھیں گے؟
ہمارے معاشرے میں یہ ایک بہت پرانا لیکن بہت پر اثر نسخہ ہے کہ، کسی کو بھی کسی نئ چیز یا سوچ سے روکنے کے لیے یہ جملہ کافی ہوتا ہے … لوگ کیا کہیں گے…؟
اس ایک جملے سے کئ ایسے اچھے کام جو ہونے چاہیے تھے نہیں ہوپاتے اور کچھ لوگ صرف اسی ایک جملے کی خاطر اپنے کافی سارے کام روک لیتے ہیں۔
.
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا آپکی زندگی میں ایسے لوگ سچ مچ میں ہوتے ہیں، اگر ہوتے ہیں تو کیا آپ ان کی یہ بات سنکر خود کو روک لیتے ہیں ۔ اگر روکتے ہیں؟ یا اچھا خاصا کام رک جانے کے بعد پھر کڑھتے ہیں اور خود کو کوستے رہتے ہیں کہ کاش میں نے کرلیا ہوتا یہ کام….!
.
اس بات کو لے کر میں اکثر سوچتا ہوں کہ وہ لوگ اس وقت کہاں ہوتے ہیں جب آپ کو ان کی ضرورت ہوتی ہے کسی کے ساتھ کی۔؟
یہ لوگ اس وقت کہاں ہوتے ہیں جب آپ اپنا دکھ چہرے پر رقم کیے گھوم رہے ہوتے ہیں۔ تب کوئ پوچھنے نہیں آتا۔
.
ہم کیوں لوگوں کی باتوں کو اہمیت دیتے ہیں کبھی سوچا ہے اس بارے میں۔؟
نہیں تو سوچیے وہ کون سے عوامل ہیں جو آپکو اس بات پر مجبور کرتے ہییں ۔
لوگوں میں کون آتا ہے
گھر والے
دوست
عزیز، رشتہ دار
اگر تو آپ کےگھر والے ایسا کچھ سوچتے ہیں تو ان سے بات کی جاسکتی ہے انہیں سمجھایا جا سکتا ہے ۔
دوست آپکی خوشی میں خوش ہوگا ۔
اور عزیز رشتہ دار ۔۔۔
کیا وہ ایسے ہیں کہ آپ اپنی زندگی میں جو کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ اپنے اس کام کو آپ انکے لیے چھوڑ دیں گے…؟؟
اگر ہاں تو پھر ٹھیک ہے بیٹھ جائیے ایک کونے میں منہ چھپاکر اور بس یہ ہی سوچتے رہیے کہ
لوگ کیا کہیں گے….؟؟
.
حضرت عمر فاروق رضی اللہ سے منسوب ایک قول ہے، وہ فرماتے ہیں کہ آدمی تیر کی مانند سیدھا بھی ہوتو لوگوں میں اسکے طعنہ زن موجود رہتے ہیں، اس لیے یاد رکھیں اور خوب یاد رکھیں آپ لوگوں کے ساتھ کتنا بھی احسان کریں ، کتنی بھی اچھائی سے پیش آئیں پھر بھی آپ ان کی اذیت سے محفوظ نہیں رہ سکتے
.
حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
لوگوں کی اذیتوں سے بچنے کا طریقہ کار کیا ہے؟
انھوں نے جواب دیا: درج ذیل چیزوں پر عمل کرو:
.
1- تم انھیں دیتے اور نوازتے رہو مگر ان سے کبھی لینے کی امید مت رکھو،
2- لوگ تمہیں تکلیف پہنچائیں تو تم بدلے میں انھیں تکلیف نہ دو،
3- ان کی ضرورتوں کو پورا کرو مگر کبھی ان سے تم اپنی ضرورت پوری کرنے کا مطالبہ نہ کرو۔
سائل یہ جواب سن کر کہنے لگا : امام صاحب! اس پر عمل کرنا تو بہت مشکل ہے۔
امام احمد بن حنبل نے جواب دیا:
اے کاش! اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود تم ان کی اذیت سے محفوظ رہ جاؤ۔
(سير أعلام النبلاء / الجزء 11 الطبقة 12)
.
یقین جانئیے لوگ کیا کہیں گے؟؟؟ والی سوچ ایسی گھٹیا سوچ ہے جو اللہ کا ڈر نکال کے لوگوں کا خوف ذہن پہ غالب کردیتی ہے۔
کوئ کیا کہے گا ۔۔ کی پرواه سے آزاد ہو کر، اللہ کیا کہتا ہے ۔۔ کی فکر میں مُبتلا ہو۔ یہ نُسخہ احساسِ کمتری کا ازالہ ہے۔
.
زندگی اور لوگ مجھے اس مقام پہ لے آئیں ہیں جہاں میں”لوگ کیا کہیں گے لوگ کیا سوچیں گے” جیسی فکروں سے آزاد ہو کر اپنے آپ میں مست ہوں
جو عزت دیتا ہے اسکو دگنی عزت دیتا ہوں
جو محبت دیتا ہے اسکو سود سمیت واپس لوٹاتا ہوں
جو مجھ سے دور جانا چاہتا ہے اسے بے غم ہو کر چھوڑ دیتا ہوں
جو رکنا چاہتا ہے اسے ہمیشہ اپنے ساتھ جوڑے رکھتا ہوں
جو مجھ سے بغض یا نفرت رکھتے ہیں انکے بارے میں، اللہ سے ہدایت کی دعا کرتے ہوئے دور رہو درست رہو والا معاملہ اپنا لیتا ہوں، کیونکہ میرے دل سے لوگوں کا ساتھ پانے کی ان سے الجھنے کی یا انکو خوش رکھنے کی چاہ ختم ہو چکی ہے
استاذی سید معراج ربانی لکھتے ہیں کہ کسی کو اپنی تعریف کرتے سنیں تو گھمنڈ نہ کریں بلکہ اپنی کمیوں کو یاد کریں ۔
اور اگر کسی کو اپنی مذمت یا برائی کرتے سنیں تو پست ہمت نہ ہوں اور خودکردہ اچھائیوں کو یادکریں ۔
اور اپنے بارے میں لوگوں کی رائیں تلاش کرنےکے پیچھےنہ پڑیں کہ لوگ آپکے بارے میں کیا باتیں کرتےہیں کیونکہ اپنے بارے میں آپ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔
اورجب کوئی آپکی تعریف کرے تو سلَفِ صالحین کی یہ دعایاد رکھیں:
اللَّهُمَّ لاتُؤاخِذْني بِمايَقُولُونَ،واغْفِرلي مالايَعلَمُونَ وَاجْعَلْنِي خَيراً مِمّايَظُنُّون



