سیاسی و مذہبی مضامین

ناراض کیوں ہے ہم سے اللہ؟احتساب کیجئے

ناراض کیوں ہے ہم سے اللہ؟احتساب کیجئے
حافظ مجاہد الاسلام عظیم آبادی
استاذ البروج انٹرنیشنل اسکول پٹنہ و اـونر روح حیات سینٹر (یوٹیوب)

احتساب نفس کا معنی نفس کو غلط رجحانات ومیلانات سے موڑ کر نیکی اور خدا پرستی کے موڑ پر ڈال دینا، اپنے آپ کو بدنماداغ سے پاک کرنا اور اپنے اندر طہارت قلب جیسی عظیم خصلت کو پناہ دینا ہے۔
آج کے اس پرفتن و پر آشوب دور میں جب کہ اسلام اور مسلمانوں پرہر چہار جانب سے حملے ہو رہے ہیں، ان کی عزت وناموس پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے،ان کے خلاف فیصلے سنائے جا رہے ہیں، ہر شخص کو یہ شکوہ ہے کہ ہماری بات کا کوئی مثبت اثر نہیں ہوتا، باپ کو بیٹے سے شکایت ہے تو بیٹے کو باپ سے گلہ ہے،

گویا کہ پورا معاشرہ اس بیماری سے جوجھ رہاہے اور یہ مرض کینسر کی طرح ہمارے معاشرے اور سماج کو کھائے جارہا ہے۔ اس کا حل اگر ہم مختصرا تلاش کریں تو قرآن اس سلسلہ میں ہماری رہنمائی یوں کرتا ہے: (کہ ائے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاو) (التحریم: 6)اس آیت میں اللہ رب العالمین نے پہلے خود کو بچاؤ کہہ کر خود احتسابی کو مقدم کیا اور حکم دیا کہ معاشرے کی اصلاح کے لیے سب سے پہلے اپنے آپ کی اصلاح کی ضرورت ہے، پھر اپنے کنبہ اور گھرانے کو اس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن خود انسان اور پتھر ہونگے،

اس آیت کریمہ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہیکہ انسان کو پہلے خود کی اصلاح کرنی چاہیئے، پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیئے کہ بذات خود کتناگناہوں کی سمندر میں غوطہ زن ہے اس کے بعد کسی اور پر انگلی اٹھانی چاہیئے بقول شاعر

ایک دن دینا ہے تجھکو لمحہ لمحہ کا حساب
زیست کا اپنی ہر ایک سود و زیاں تحریر کر

مگر افسوس کا مقام ہیکہ لوگ اس آیت کے بالکل خلاف عمل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جہاں اللہ رب العالمین یہ کہہ رہا ہیکہ پہلے خود کی اصلاح کرو وہیں آج کا یہ نام نہاد مسلمان خود کی اصلاح کے بجائے دوسروں کے گریبان میں جھانکنے سے باز نہیں آتا، خود بھلے ہی گناہوں کے عمیق سمندر میں غوطہ لگا رہا ہو لیکن دوسروں پر طعنہ کسنے اوراُن کی برائی کرنے سے باز نہیں آتا، اپنے گھر کی کوئی خبر نہیں ہوتی لیکن پڑوسی کے بارے میں پورا علم رہتا ہیکہ فلاں کی بیٹی کیا کر رہی ہے، فلاں کا بیٹا کس حد تک گناہوں میں غرق ہے فلاں کا خاندان کتنا برا ہے غرض خود کو چھوڑ کر دوسروں کے بارے میں سب علم ہوتا ہے۔

قرآن کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کو کس طرح اپنے نفس کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ آیا وہ میدان عمل میں کتنا کارگر ہے، اس کے اعمال میں وہ خلوص وللہیت موجود ہیکہ نہیں جو قبولیت اعمال کے لئے ضروری ہیں۔ اس لیے کہ نفس کا محاسبہ اور تزکیہ آدمی کی نجات کا ذریعہ ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: (ہم نے (انسان) کو سمجھ دی کہ وہ بدکاری سے بچے، اور جو گناہوں سے بچا وہ کامیاب ہوا) (الشمس: ۸، ۹) انسان فطرتاً نیک اور موحد پیدا کیا گیا یعنی نفس کو پیدا کرنے کے بعد اس میں وہ تمام ظاہری اور باطنی قوتیں رکھ دیں جن سے کام لے کر وہ ایسے سب کام سرانجام دے سکے جن کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ سَوّٰھَا کے مفہوم میں یہ بات شامل ہے کہ انسان پیدائشی طور پر نہ گناہ گار پیدا ہوا ہے جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے اور اسی غرض سے انھوں نے کفارہ مسیح کا عقیدہ اختراع کیا اور نہ ہی انسان شرپسند پیدا ہوا ہے جیسا کہ بعض گمراہ فرقوں کا خیال ہے۔

بلکہ انسان کی فطرت میں راستی اور سچائی ودیعت کی گئی ہے۔ جھوٹ بولنا وہ بعد میں سیکھتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ خیر خواہی کے جذبہ سے مل جل کر رہنا چاہتا ہے، دوسروں کی بدخواہی اور ایذا پہنچانا وہ بعد میں سیکھتا ہے۔ اس کی فطرت میں توحید ہے، شرک کرنا وہ بعد میں سیکھتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر بچہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) دوسری جگہ اسی بات کو فرمایا: (بیشک اس نے فلاح پائی جو پاک ہو گیا اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا)(الاعلیٰ: 14/15) یعنی جس نے اپنے آپ کو کفر و شرک ،عقائد فاسدہ سے اور اخلاقی رذیلہ سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا

جو شخص اپنے نفس کو پاکیزہ بنا لے پھر اللہ کو زبان سے بھی یاد کرتا رہے اور دل میں بھی یاد رکھے۔ پھر اسی کی تائید کے طور پر باقاعدگی سے نمازیں ادا کرتا رہے تو سمجھ لو کہ اس کی زندگی سنور گئی اور کامیاب ہوگیا۔ یہاں کامیابی سے مراد اخروی کامیابی تو یقینی ہے اور اس دنیا میں اس کی کامیاب زندگی کا انحصار اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے کیونکہ دارالجزا آخرت ہے یہ دنیا نہیں۔

نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح احتساب نفس کا جذبہ ان کے اندر موجود تھا۔ آپ ﷺ معصوم عن الخطاء تھے یعنی آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف تھے لیکن دن میں سو مرتبہ اللہ رب العالمین سے توبہ کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ’’اپنے (اعمال) کا حساب کرو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے‘‘، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ لوگوں کو محاسبئہ نفس پر ابھارتے ہوئے کہا کرتے تھے بیشک تم ایسے عمل کرتے ہو جو تمہارے نزدیک بال سے بھی باریک ہیں لیکن وہ بہت ہی بڑے ہیں۔

جب انسان احتساب نفس کرتا ہے، اپنے اعمال کاجائزہ لیتا ہے اور اس بات کا حساب کرتا ہے کہ میں نے کتنی نیکیاں کمائیں اور کتنے گناہ کے کام انجام دیئے تو ایسی صورت میں انسان بجائے خسارہ کے فائدہ حاصل کرتا ہے۔ جیسا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش ہوئی تو نفس کا محاسبہ کرنے کی وجہ سے ان کو توبہ کرنے کا موقع ملا۔ احتساب نفس کی وجہ سے حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں اپنی غلطیوں کی معافی مانگنے کا شرف حاصل ہوا۔ محاسبہ نفس ہی کی وجہ سے حضرت داؤد علیہ السلام کو آزمائش کے وقت اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنے کاموقع ملا۔ نفس کے محاسبہ کا نتیجہ تھا کہ اللہ کے نبی ﷺ اپنے زبان مبارک سے ایک مجلس میں ’’رب اغفرلی و تب علی انک أنت التواب الغفور‘‘ کو سو مرتبہ پڑھتے تھے۔

جب ہم دور حاضر پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں برائیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ نظر آتا ہے، موجودہ ترقی یافتہ دور میں غیر مسلم اقوام کے حالات کا جائزہ بتاتا ہے کہ ان کے یہاں احتساب نفس کا وجود ہی نہیں ہے، بلکہ خواہشات نفس کی پیروی،جھوٹ اور مکرو فریب بالکل عام ہے۔ ان کے نزدیک صرف اور صرف دنیا کی رنگینیوں کو مقام اول حاصل ہے۔ اور احتساب نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اسی طرح جب اپنے مسلم قوم کا جائزہ لیتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ یہ قوم بھی غیروں کی طرح نفس پرستی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے، اور ان کے اندر اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کاخیال ہی پیدا نہیں ہوتا، جب کہ اسلامی تعلیمات عدم احتسابی کے بالکل مخالف ہیں، اور کیوں نہ ہو جب کہ یہ ایک ایسی مہلک بیماری ہے جس کا شکار ہونے کے بعد انسان خواہشات کا پرستار ہوجاتا ہے اور اپنے مقصدکو بالائے طاق رکھ کر ارشادات ربانی اور فرامین رسول کو حوالئہ طاق نسیاں کر دیتا ہے۔جب نیا سال آتا ہے تو بجائے احتساب نفس کے جشن منایا جاتا ہے،

جب کسی کا سالگرہ آتاہے تو بجائے احتساب نفس اور زندگی کے ایک سال اور کم ہونے پر رونے کے دھوم دھام سے خوشیوں کی محفل سجائی جاتی ہے، آخر خوشی کس بات کی؟ زندگی سے ایک سال اور کم ہونے کی یا قیامت سے اور قریب تر ہونے کی؟ارشاد نبوی ہے: قیامت کے دن کسی بندے کا قدم اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا جب تک کہ اس سے پوچھے گئے سوالوں کا جواب نہ لیا جائے گا کہ: ”عمر کہاں گذاری؟اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟ مال کہاں سے کمایا؟ اور کہاں خرچ کیا؟ اور اپنا جسم (صحت و توانائی)کس چیز میں لگایا؟” (سنن ترمذی:2417) دوسری جگہ ارشاد ہے ”ایک بندہ اس وقت تک تقوی شعار نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ اپنے نفس کادوشریک کے باہمی حساب وکتاب سے بھی زیادہ سخت محاسبہ نہ کرے” اسی لیے کہاجاتاہے،نفس خائن شریک کی مانند ہے کہ اگر اس سے حساب وکتاب نہ کرو تو تمہارا مال ہضم کرجائے گا، سچ تو یہ ہے کہ دنیا و آخرت کی سعادت ونیک بختی نفس کی تادیب،اصلاح،تزکیہ اور تطہیر میں ہے، جب کہ نفس کی شقاوت وبدبختی اس میں خرابی،میل،اورخباثت ونجاست بھر دینے میں ہے۔

لہذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ رات میں بستر پر جانے سے قبل اپنا یومیہ محسابہ کرے کہ اس نے آج کیا کیا، کیا اس نے کچھ ایسے اعمال کیے جو خداوند کو ناراض کرنے والے تھے؟ کیا اس نے پنجگانہ نمازوں کی ادائیگی کی؟ کیا سنن و نوافل کا اہتمام کیا؟ کیا حلال رزق کمایا؟ کہیں مال میں حرام کی آمیزش تو نہیں؟اپنے ہر ایک پہلو پر تدبر و تفکر کرے، اگرگناہوں کا رسیاہے تو توبہ،ندامت،انابت اوراستغفار کے ذریعہ اپنے رب کوراضی کرنے کی کوشش کرے۔نفس کی تطہیر اورپاکیز ہ گی ایمان اورعمل صالح سے ہوتی ہے،جبکہ اس کی پلیدی،خرابی اورفساد،کفر اورگناہوں کی وجہ سے۔
اخیر میں اللہ تعالی سے دعاہے کہ وہ ہمارے اندر محاسبہ نفس کاجذبہ پیداکرے اوراحتساب نفس کی توفیق بخشے۔آمین یارب العالمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button