سیاسی و مذہبی مضامین

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔ امیر شریعت مولانا ولی رحمانی رحمہ اللہ۔

  امام علی مقصود فلاحی۔

متعلم:۔ جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔

امیرشریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کا ہفتے کے دن 3اپریل کو دو بج کر 50 منٹ پر انتقال ہوگیا ہے ۔ مولانا گذشتہ کئی دنوں سے سخت علیل تھے اور کرونا سے بھی متاثر ہوگئے تھے ۔
 مولانا کی نمازہ جنازہ آج بروز اتوار 04/04/21 مونگیر میں ادا کی جائے گی ۔
مولانا محمد ولی رحمانی صاحب آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے جنرل سکریٹری اور امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ ،جھارکھنڈ کے امیر شریعت بھی تھے ۔ ہندوستانی مسلمانوں کے قدر آور اور عظیم مسلم رہنما بھی تھے ۔
آپ جہاں رہتے اور جس مجلس میں رہتے، آپ کا پیغام واضح رہتا دو ٹوک انداز میں اپنی بات کہتے کسی طرح کی گھبراہٹ اور خوف آپ پر نہیں رہتی، آپ اپنے والد ماجد مولانا محمد منت اللہ رحمانی رح کے نقش قدم پر تھے اور الولد سر لابیہ کے مصداق تھے۔
 یعنی باپ کے پرتو اور نقش جمیل تھے۔
مولانا بیک وقت کئی مرکزی عہدے پر فائز تھے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے‌ جنرل سکریٹری ، امارت شرعیہ بہار و اڈیشہ و جھارکھنڈ کے امیر شریعت، خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشین اور سرپرست اور رحمانی ٹھرٹی کے ذمہ دار اعلی۔۔۔۔ اور نہ جانے کتنی ذمہ داریاں تھیں آپ کے سر پر۔
آپ مولانا محمد علی مونگیری رح کے پوتے تھے اور مولانا محمد منت اللہ رحمانی رح کے صاحب زادے تھے۔آپ سادات خاندان کے چشم و چراغ تھے، آپ کا خاندان عراق سے ہندوستان منتقل ہوا۔
 آپ کے دادا جان ندوہ کے بانی مبانی تھے اور ندوہ کا تخیل سب سے پہلے انہوں نے ہی پیش کیا تھا۔آپ کی پیدائش ۱۹۴۲/یا ۱۹۴۳ء میں مونگیر میں ہوئی۔ تربیت اعلی دینی ماحول میں ہوئی۔۔ابتدائی اور ثانوی تعلیم خانقاہ مونگیر میں ہوئی، عالمیت تک کی تعلیم ندوہ العلماء لکھنؤ میں ہوئی اور ازہر ہند دار العلوم دیوبند سے سند فضیلت حاصل کی۔
خانقاہ رحمانی مونگیر میں تدریسی خدمت پر مامور ہوئے بڑے بڑے علماء آپ کے شاگردوں میں ہیں، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مولانا شعیب رحمانی مرحوم آپ کے نمایاں شاگردوں میں سے ہیں۔
اللہ تعالی نے آپ کو صورت و سیرت اور علم و عمل کا جامع بنایا تھا۔ جس مجلس میں ہوتے اپنی صلاحیت قابلیت اور نقاہت و ثقافت کے اعتبار سے چھا جاتے تھے۔سیاسی بصیرت سے بھی اللہ تعالی نے خوب نوازا تھا۔
 علمی، دینی ملی سیاسی اور سماجی کاموں میں آپ کے جو کارہائے نمایاں ہیں ان کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔آپ مسلسل چوبیس سال ایم ایل سی رہے ۱۹۷۲ء سے ۱۹۹۲ء تک۔۔ سیاسی میدان میں بھی آپ کو زبردست صلاحیت تھی۔ تحریر و تقریر دونوں میدان کے ماہر تھے، اسلوب خطابت بڑا موثر اور نرالا تھا، زبان و بیان پر ملکہ حاصل تھا۔علاوہ ازیں آپ رحمانی 30 کے بانی بھی ہیں ،اور یہ ایک  ایسا پلیٹ فارم جہاں عصری تعلیم کے متعدد شعبوں میں معیاری اعلی تعلیم و قومی مقابلاجاتی امتحانات کے لیے طلبہ کو تیار کیا جاتا ہے ۔
 اس ادارے سے ہر سال NEET اور JEE میں 100 سے زائد طلبہ منتخب ہوتے ہیں۔ 
اس ادارے کا بنیادی مقصد
JEE-adv (IIT)
Commerce
Medical
Olympiad
وغیرہ میں طلباء کو تعلیم و تدریس دینا ہے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، بال بال آپ کی مغفرت فرمائے، اور آپ کے لواحقین کو کیا بلکہ سارے ہندوستانی مسلمانوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
آمین یارب العالمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button